خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 108

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء آسانی سے دوسرے طریق پر ادا کی جاسکتی ہے۔؟ مثلاً کھانا کھانے کیلئے کہنا کہ ” تناول فرما لیجئے نوش جاں فرما لیجئے کھا لیجئے ٹھونس لیجئے نگل لیجئے زہر مار کر لیجئے۔ان سب کے کہنے کا مطلب تو ایک ہی ہے کہ کھانے کو اٹھا کر منہ میں ڈالو اور نگل جاؤ لیکن پہلے تین فقروں سے سمجھا جاتا ہے کہ جس کو کھانے کیلئے کہا گیا ہے اس کا ادب ملحوظ رکھا گیا ہے۔اور پچھلے تین فقروں سے اس کی تحقیر ثابت ہوتی ہے۔ٹھونس لیجئے“ کہنے والا کہہ تو سکتا ہے کہ اس کا بھی وہی مطلب ہے جو کھا لیجئے کا ہے کیونکہ وہ بھی اسی طرح لقمہ ہاتھ سے اٹھا کر منہ میں ڈالے گا جس طرح دوسرا ڈالے گا۔لیکن صرف مطلب کو ہی مدنظر نہیں رکھا جاتا بلکہ طرز ادا کو بھی دیکھا جاتا ہے۔تو ایک بات ایک رنگ میں ادا کرنے سے تو فائدہ مند ہوتی ہے لیکن وہی بات دوسرے رنگ میں کرنے سے مضر ہو جاتی ہے کیونکہ طرز ادا کا انسان پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔اس لئے اس میں بہت ہے احتیاط مد نظر رکھی جاتی ہے اور خصوصا راجوں مہاراجوں کے درباروں میں تو بہت ہی محتاط رہنا پڑتا ہے۔ایک مشہور قصہ ہے کہ انشاء اللہ خان ایک بہت مشہور اور نامور شاعر گزرا ہے۔وہ بادشاہی دربار میں بیٹھا کرتا تھا جس کی عادت تھی کہ جو کوئی بھی بادشاہ کی تعریف کرتا وہ اس سے بڑھ کر تعریف کر دیتا۔ایک دن کسی نے بادشاہ کی تعریف کی کہ آپ بڑے عالی خاندان ہیں۔دوسرے نے کہا کہ آپ والا نسب ہیں۔تیسرے نے کہا کہ آپ نجیب الطرفین ہیں۔انشاء اللہ نے چونکہ ان سب سے بڑھ کر کہنا تھا۔اس لئے اس نے کہا کہ آپ نجیب کیا بلکہ انجب ہیں۔انجب کے چونکہ دو معنی تھے۔ایک یہ کہ لونڈی زادہ اور دوسرے اعلیٰ خاندان کا اور چونکہ بادشاہ لونڈی زادہ تھا، اس لئے لوگوں کی نظریں اسی طرف گئیں۔اور انشاء اللہ یہ کہنے کی وجہ سے ذلیل ہو گیا حالانکہ لفظ کے اچھے معنی بھی تھے۔اسی طرح اگر کوئی آدمی کسی سے اجازت طلب کرے کہ کیا اب میں جاؤں تو وہ کہے کہ جائے۔لیکن اگر وہ اس کو کہے کہ نکل جاؤ تو دونوں باتوں کا مطلب تو ایک ہی ہے لیکن اگر اس کو یہ کہا جائے گا کہ نکل جاؤ تو وہ لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔اور کہے گا کہ گھر آنے والے کی تم یہی عزت کرتے ہو؟ ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کیلئے احتیاط کرنی نہایت ضروری ہے۔پھر خدا کے حضور بات کرنے کیلئے تو اور بھی احتیاط کرنی چاہیئے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی عظمت ، شوکت، جبروت اور عزت کا مقابلہ کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ بھی نہیں کر سکتا۔جب آپس میں لحاظ کوملحوظ رکھنا پڑتا ہے تو خدا کی جبروت