خطبات محمود (جلد 4) — Page 86
خطبات محمود جلد ۴ ۸۶ (۲۱) قرآن گزشتہ انبیاء اور الہامی کتب کی تصدیق کرتا ہے (فرموده ۸ مئی ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشهد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی: وَامِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوا بايتي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقِّ وَأَنْتُم تَعْلَمُونَ اس کے بعد فرمایا:۔بہت سی جگہ انسان اس لئے ٹھوکر کھا جاتا ہے کہ وہ کسی غصے اور جوش میں آکر ایک حق بات کو تسلیم نہیں کر سکتا۔مثلاً ایک مبلغ کسی کو تبلیغ کرنے جائے اور جاتے ہی اس کو گالیاں سنانی شروع کر دے تو اس کی بات کا کہاں اثر ہوگا اور اس بات کو کب کوئی مانے گا۔کیونکہ جس کو وہ تبلیغ کرے گا وہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے میرے سامنے اپنی باتوں کو ایسے رنگ میں پیش کیا تھا کہ میں مان نہیں سکتا تھا۔بہت سے ایسے معاملات جو بُرے طریقے پر پیش کئے جاتے ہیں لوگوں کو سچائی کے ماننے سے روک دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی نسبت اہل کتاب کو فرماتا ہے کہ اگر اس میں یہ لکھا ہوتا که نَعُوذُ باللہ) موسی جھوٹے ہیں یا توریت اللہ کی طرف سے نہیں ہے یا مسیح" کا دعویٰ نبوت غلط ہے یا انجیل الہامی کتاب نہیں ہے تو گو اس صورت میں بھی جو کچھ قرآن پیش کرتا غور کرنے کے قابل تھا لیکن اس میں تو ایسا نہیں ہے بلکہ یہ تو تمہارے عقائد کے مطابق ان کی