خطبات محمود (جلد 4) — Page 83
خطبات محمود جلد ۴ ۸۳ سال ۱۹۱۴ء اسی وقت اپنے وعدے پورے کروں گا جبکہ تم بھی اپنے وعدے پورے کرو گے۔جب تم راستباز بن جاؤ گے، گناہوں کو چھوڑ دو گے فسق و فجور سے قطع تعلق کر لو گے، بغض و کینہ سے اپنے سینوں کو صاف کر لو گے اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہو جاؤ گے تب تم سچے مسلمان بنو گے اور پھر تم سے وعدے پورے کئے جائیں گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل سے ہم نے وعدے پورے کئے تاریخ میں بنی اسرائیل کے حالات پڑھ کر رشک آتا ہے کہ چار چار سونبی ایک زمانہ میں پیدا ہوئے۔کیا ہی محبت اور پیار کے دن ہوں گے نبیوں کی صحبتیں اور کثرت سے اولیاء کی صحبتیں کیا ہی مزا دیتی ہوں گی۔خدا تعالیٰ کے پاس پہنچنے کے رستے کھلے ہوئے ہوں گے۔لیکن جب انہوں نے اپنے عہدوں کو پورا کرنا چھوڑ دیا تو تباہ و برباد ہو گئے۔یہودیوں سے بہت بڑھ کر مسلمانوں کے ساتھ خداوند تعالیٰ کے وعدے تھے اور اس جگہ اس آیت کا ذکر اس لئے ہے کہ تم میری نعمتوں کو یاد کرو۔یہ وہی وعدے ہیں جو بنی اسرائیل سے کئے گئے۔تم بھی میری نعمتوں کو دیکھ کر اپنے معاہدوں کو پورا کرو پھر میں بھی اپنے معاہدوں کو پورا کروں گا۔کیا میں نے بنی اسرائیل سے پورے نہیں کئے تھے۔تم ان نعمتوں کو دیکھ سکتے ہو جو ان پر ہوئیں۔اب بھی میں ایسا کر سکتا ہوں بشرطیکہ تم اپنے آپ کو اس قابل بناؤ۔میں پھر وعدے پورے کروں گا۔مسلمانوں کے پاس یہودیوں سے بہت زیادہ ملک تھے۔چین، افغانستان، بلوچستان ، ایران ، ترکستان آرمینیا ، یورپ کا بہت بڑا حصہ، افریقہ ، عرب۔یہ ملک مسلمانوں کے پاس ان سے زائد تھے۔پھر مسلمانوں کو نبی دیا تو ایسادیا کہ رسول کریم صلی یا کہ ہم نے فرمایا کہ لو كان مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعی ۲ اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں میری ہی پیروی کرنی پڑتی۔پھر عُلَمَاءُ أُمَّتِی كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ سے ایسے عالی مرتبہ اولیاء بھیجے جو بڑی شان رکھتے تھے۔بنی اسرائیل کے میں تو چار چارسو نبی ایک زمانہ میں ہوتے تھے ہم لیکن رسول کریم صلی اینم کی امت میں ایک ایک شہر میں چار چار سو دلی ہوئے۔اور اس حدیث میں یہ بتایا گیا کہ گو کسی مصلحت سے ان کا نام نبی نہ رکھا جائے لیکن وہ نبیوں کی برکات والے ہوں گے۔حضرت جنید رضی اللہ عنہ کے چار سوشا گرد ایک شہر میں رہتے تھے۔دنیا کی کوئی حکومت اور طاقت رسول کریم مالی ایم کا معت الہ نہیں کرسکتی تھی اور کسی میں طاقت نہ تھی کہ وہ مسلمان سے لڑے۔حضرت علی اور امیر معاویہ کی لڑائی کے وقت ایک عیسائی