خطبات محمود (جلد 4) — Page 82
خطبات محمود جلد ۴ ۸۲ سال ۱۹۱۴ء دیں۔ادھر خریداروں کی خواہش ہوتی ہے کہ ہم قیمت تو تھوڑی دیں لیکن مال اچھا لیں۔خواہ تاجر گھر سے ڈال کر دے۔نوکر چاہتا ہے کہ میں محنت کم کروں لیکن تنخواہ زیادہ پاؤں اور آقا چاہتا ہے کہ کام پورا لوں لیکن تنخواہ بہت کم دوں۔غرضیکہ ہر ایک آدمی اپنے معاملہ میں دوسرے کا نقصان ہی کرنا چاہتا ہے۔لیکن یہ نہیں چاہتا کہ کسی اور کو بھی کوئی فائدہ پہنچ سکے۔بعض دفعہ ہر دو فریق ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہوئے خود نقصان اُٹھا لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے سنا کہ ایک دفعہ ایک شخص نے ایک بزاز سے کپڑا خریدا۔جب وہ خرید کر گھر چلا گیا تو فروخت کرنے والے شخص کو معلوم ہوا کہ اس کپڑے میں تو نقص تھا کیڑے نے اس کو نا کارہ کر دیا ہوا تھا۔اس کو خوف خدا آیا کہ میں نے مسافر سے دھوکا کیا ہے۔وہ ایک قافلے کا آدمی تھا قافلہ چلا گیا۔تاجر اس کے پیچھے گیا اور دو تین منزلوں پر جا کر اس سے ملا اور کہا کہ میرا دل گھبرا گیا کیونکہ میں نے تم کو دھوکہ دیا۔تم اپنا روپیہ واپس لے لو اور مجھے کپڑا دے دو۔اس نے کہا کہ تو نے ہی دھوکا نہیں دیا میں نے بھی کیا ہے۔جتنے روپے میں نے تم کو دیئے تھے وہ سب کھوٹے تھے مجھے تو نفع ہی رہا تھا۔لوگوں سے تو دھوکا کیا ہی جاتا ہے لیکن آدمی اللہ کو بھی دھوکا دینا چاہتے ہیں۔آدمی دھوکا کھا جاتا ہے۔لیکن تعجب اور حیرت اس بات پر ہے کہ انسان خدا کو بھی دھوکا دینا چاہتے ہیں اور پھر عجیب در عجیب فریب کرتے ہیں۔خدا کے ساتھ جو معاہدہ ہے اس کو تو پورا نہیں کرتے لیکن یہ امید رکھتے ہیں کہ خدا ہم سے اپنے عہد کو پورا کرے۔یہ کہتے ہیں کہ ہم نے چونکہ مسلمان کہلا لیا پس خدا ہم کو مسلمان سمجھ لے گا خواہ ہم میں کتنا ہی بغض، کینہ ، دشمنی اور برائیاں کیوں نہ ہوں۔اور خدا ہم سے مسلمانوں والا سلوک کرے گا اور دھوکا کھا جائے گا۔لیکن انہیں معلوم نہیں کہ وہ عالم الغیب ہے۔انسان دھوکا کھا سکتا ہے، دکاندار خریدار کو دھوکا دے سکتا ہے، نوکر آقا کو دھوکہ دے سکتا ہے اور آقا نوکر کے ساتھ دغا بازی کر سکتا ہے لیکن خدا دھوکا نہیں کھا سکتا کیونکہ وہ تو انسان کی ہر ایک کمزوری کو خوب جانتا ہے اور پوشیدہ بھیدوں اور ارادوں سے بھی خوب واقف ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان عبادت کرتا ہے لیکن خدا کی درگاہ میں قبول نہیں ہوتی۔روزے رکھتا ہے لیکن خدا کے حضور قبول نہیں کئے جاتے۔بیبیوں نیکی کے کام کرتا ہے لیکن رد کئے جاتے ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ خدا انسان کی نیتوں اور اندرونی رازوں کو جانتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان باتوں سے کام نہیں بن سکتا میں