خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 84

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء بادشاہ نے حملہ کرنا چاہا تو امیر معاویہ نے اس کو کہلا بھیجا کہ اگر کوئی لڑائی کیلئے آیا تو علی کی طرف سے جو پہلا جرنیل نکلے گا وہ معاویہ ہوگا۔۵۔ایک پادری نے بادشاہ کو سمجھانے کے لئے دو کتے منگوائے اور ان کو بھوکا رکھا پھر ایک گوشت کا لوتھڑا منگوا کر اس پر ان کو چھوڑ دیا۔اور ایک بھیڑیا بھی چھوڑا۔تو وہ دونوں کتے اکٹھے ہو کر اس بھیڑیے پر حملہ آور ہوئے۔اس نے کہا کہ یہی مثال مسلمانوں کی ہے۔یہ اگر چہ آپس میں لڑتے ہیں لیکن کسی مقابلہ میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اگر چہ اس پادری نے یہ مثال تعصب اور عداوت کی وجہ سے گندی دی۔لیکن اصل میں یہ واقعہ سچا تھا۔اب مسلمانوں کی حکومتیں کہاں ہیں اور جو بے نام و نشان ہیں بھی انہیں دوسری سلطنتیں مردے کے ترکہ کی طرح بانٹ رہی ہیں۔اور مسلمانوں کو کوئی پوچھتا تک نہیں۔کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہودیوں کی طرح عہد شکنی کی ہے۔اب تم نے بھی عہد باندھا ہے اس لئے خدا کی طرف سے یہ پیغام تمہارے لئے ہے کہ تم سے پہلی قوم صحابہ نے اپنے عہدوں کو پورا کیا۔تم ان کی نعمتوں کو یاد کرو اور خدا کے عہدوں کو پورا کر وہ تمہارے ساتھ بھی یہ عہد پورے کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ل پس تم بیعت کے اقراروں کو پورا کرو ، خدا ( اُوفِ بِعَهْدِ (كُمْ) بھی پورا کر دے گا۔پس کسی سے نہ ڈرو۔بے جاؤر رکھنے والا ہلاک ہو جا تا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَارْهَبُونِ اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر کسی حکومت سلطنت اور دشمن کا ڈر نہیں رکھنا چاہیئے ہاں سلطنت کی فرمانبرداری صدق دل سے کرو۔مگر یہ فرمانبرداری اس لئے کرو کہ خدا فرماتا ہے کہ اپنے حاکموں کی فرمانبرداری کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر میں وہی وعدے پورے کروں گا۔مسلمانوں کی کیسی شان و شوکت تھی اگر کوئی جاہل انسان بھی ان حالات کو سنے تو اسے شوق آ جاتا ہے کہ کاش! میں بھی اس وقت ہوتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب بھی کوئی روک نہیں۔اب تم وعدوں کو پورا کرو میں اس وقت بھی وہی کر سکتا ہوں۔وعدے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) اپنے مطلب کے لئے وعدے کئے جاتے ہیں لیکن بعد میں نیت بدل جاتی ہے (۲) بعض وعدے تو سچے دل سے کئے جاتے ہیں لیکن مشکلات کی وجہ سے ان پر قائم نہیں رہا جا سکتا۔(۳) وعدہ تو پورا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے لیکن اس کو پورا کرنے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔لیکن خد