خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 480

خطبات محمود جلد ۴ ۴۸۰ سال ۱۹۱۵ اور زبان میں قوت ذائقہ نہ رکھی ہوتی تو یہ چیزیں بالکل بے فائدہ ہوتیں۔ایسے ہی اگر زبان میں قوت ذائقہ نہ رکھی ہوتی اور ان چیزوں میں لذت رکھی جاتی تو یہ لذت بالکل بے فائدہ ہوتی۔اسی طرح ناک میں سونگھنے کی قوت رکھ دی اور اس کے مقابل میں سونگھنے والی اشیاء کو پیدا کر دیا۔اگر سونگھنے کی قوت رکھ کر یہ چیزیں نہ پیدا کی جاتیں تو ناک میں اس قوت کا رکھنا بالکل بے فائدہ ہوتا۔اور اگر ناک کے اندر یہ قوت نہ رکھی جاتی اور ان چیزوں کو پیدا کر دیا جاتا تو بھی اس کا پیدا کرنا بے فائدہ ہوتا۔پس اندرونی نعمت کے زائل ہونے کے ساتھ بیرونی اور بیرونی کے زائل ہونے کے ساتھ اندرونی بھی زائل ہو جاتی۔اس انتظام کی مثال ریل کی دولائنوں کی طرح ہے جو بالمقابل جاتی ہوں۔الغرض کوئی قوت نہیں جس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے اس کے استعمال کیلئے اسباب پیدا نہ کئے ہوں۔بیرونی نعمتیں مختلف صورتوں کی ہیں۔کبھی دولت کی صورت میں کبھی زمینوں کی صورت میں کبھی حکومت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے انعام دو قسم کے ہیں لہذا ان کا شکر یہ بھی دو ہی طرح ہو سکتا ہے۔جو نعمتیں انسان کے نفس کیلئے پیدا کی گئی ہیں ان کا شکریہ انہی نعمتوں کے خرچ کرنے سے ادا ہو سکتا ہے جو انسان کے اندر پیدا کی گئی ہیں اور بیرونی نعمتوں کا شکر یہ اسی طرح ادا ہو سکتا ہے کہ وہ نعمتیں جو انسان کے آرام کیلئے اس کے نفس کے باہر پیدا کی گئی ہیں ان کو خرچ کیا جائے لیکن بہت سے لوگ اس نکتہ کو نہ سمجھ کر اگر خدا تعالیٰ کے راستہ میں مال خرچ کرتے ہیں تو جان نہیں خرچ کرتے اور بعض جان خرچ کرتے ہیں مگر مال خرچ نہیں کرتے لیکن مومن دونوں قسم کے انعاموں کے شکریے ادا کرتا ہے۔مسلمانوں کی عبادتیں بھی ایسی ہی ہیں۔مثلاً نماز ہے اس میں انسان کا جسم مشغول ہوتا ہے۔پس یہ اندرونی نعمتوں کے شکریہ کا ایک ذریعہ ہے۔اور اسکے برخلاف زکوۃ بیرونی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تمام قسم کی نعمتوں کے خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے حتی کہ مذہب حق کی نعمت کے بدلہ میں حکم فرمایا ہے کہ چونکہ ہدایت کی نعمت تمہیں ملی ہے تم اور وں کو ہدایت دو جیسا کہ فرمایا وَلتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔غرض ہر ایک نعمت کا شکر یہ اسی رنگ کے انفاق سے ہو سکتا ہے۔چنانچہ جو آیت میں نے۔ابھی پڑھی ہے اس میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جو خدا کے