خطبات محمود (جلد 4) — Page 479
خطبات محمود جلد ۴ ۴۷۹ (۸۷) ترجمۃ القرآن انگریزی کی اشاعت کیلئے تحریک (فرموده ۲۲ اکتوبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشهد تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولى الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ الله بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الحُسْنَى وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ عَلَى الْقَعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا خدا تعالیٰ نے انسان کو دو قسم کی نعمتیں دی ہیں۔ایک وہ جو اس کے نفس سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے جسم میں موجود ہیں۔ان کا مورد خود انسان کی جان اور نفس ہوتا ہے۔اور ایک وہ ہیں جو انسان کے اردگرد اس کے آرام کیلئے پیدا کی ہیں۔مثلاً چاند، سورج، پانی ہوا وغیرہ اور اندرونی نعماء میں سے ہاتھ چیز کو پکڑتا ہے اور منہ میں رکھتا ہے اور منہ اندر لے جاتا ہے پھر معدہ اسے ہضم کرتا ہے اور جو حصہ مفید جسم ہوتا ہے پھیل جاتا ہے پس یہ دو قسم کی نعمتیں ہوئیں۔غرض دونوں نعمتوں کے سلسلے انسان کے ساتھ جاری ہیں ایک اس کے نفس میں اور ایک باہر۔جو نعمت بیرونی طور پر پائی جاتی ہے اس کے مقابلہ میں انسان کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے ایک چیز رکھ دی ہے۔مثلاً پھلوں ، ترکاریوں اور کھانے وغیرہ کی چیزوں میں ایک مزہ رکھا ہے تو اس کے مقابل انسان کو جو زبان دی ہے اس میں قوت ذائقہ رکھ دی ہے۔اگر یہ چیزیں پیدا کر دی جاتیں