خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 414

خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۴ سال ۱۹۱۵ اختلاف نہیں۔ویدوں کو پڑھ لو۔باوجود اس کے کہ ہزاروں قسم کی باتیں اس میں ملا دی گئی ہیں اس لئے حقیقت سے بہت دور چلا گیا ہے مگر پھر بھی اس میں دعاؤں کا بہت بڑا حصہ پایا جاتا ہے۔اسی طرح زند اوستا میں ہے۔پھر سب سے آخری مذہب والے جو اسلام کے قریب ہیں یہودی اور عیسائی ہیں ان کی مذہبی کتب کو دیکھنے سے بھی یہی پتہ لگتا ہے کہ دعاؤں پر بڑا زور دیا گیا ہے۔تو ہر ایک مذہب کے بانیوں کے حالات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک دکھ، تکلیف اور مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ ہی کو ہے پکارتے رہے ہیں۔اگر موسیٰ علیہ السلام کوکوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کسی دنیاوی طاقت کا سہارا ڈھونڈتے نظر نہیں آتے بلکہ خدا ہی کے حضور گرتے اور دعا کرتے ہیں۔پھر حضرت مسیح پر جب مصیبت کا خطر ناک وقت آتا ہے تو اس کی کیفیت موجودہ محترف و مبدل انجیل کو پڑھ کر بھی یہی معلوم ہوتی ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ حکام کے پاس رہائی کیلئے بھاگے جاتے ، میموریل بنا کر بادشاہ کو پہنچانے کی تجویز کرتے ، یہی کرتے ہیں کہ خدا کے حضور جھکتے اور اپنی جماعت کو بھی یہی حکم دیتے ہیں کہ یہ بہت کٹھن وقت ہے، جا کر دعائیں کرو۔پھر سب سے آخری کتاب لانے والا نبی جو تمام انبیاء کی خوبیوں کا جامع ، تمام کمالات ، تمام علوم اور تقویٰ وطہارت، پر ہیز گاری اور قرب الہی کے تمام مدارج رکھنے والا تھا وہ چونکہ قرب الہی میں سب انبیاء سے بڑھ کر تھا اس لئے سب سے زیادہ دعاؤں میں مشغول رہا اور جیسا بڑا آپ کا درجہ تھا اسی کے مطابق دعا ئیں بھی بڑی کثرت سے کیں۔اگر کسی نبی نے اپنے پیروؤں کو ایک یا دو وقت دن میں یا ہفتہ میں ایک بار دعا کی تاکید کی ہے تو آنحضرت مسی یہ تم پر خدا تعالیٰ نے آپ کی فطرت کے مطابق پانچ وقت ہر دن رات میں دعا کرنا فرض کر دیا۔اس کے علاوہ تین وقت نفل پڑھنے کے ہیں جو چاہے پڑھے۔پھر آنحضرت مال یا تم نے ہر خوشی پر ، ہر رنج ، ہر راحت، ہر آرام، ہر ضرورت اور ہر حاجت کے وقت دعائیہ کلمات مقرر کر کے بتادیا کہ مسلمان کی دعا کسی خاص وقت ہی نہیں ہوتی بلکہ ہر وقت اور ہر گھڑی وہ دعا کر سکتا ہے اور اسے کرنی چاہیئے۔تو جتنا آپ خدا تعالیٰ کے قریب تھے اتنا ہی آپ کا دست سوال وسیع تھا اور جتنے آپ پر خدا تعالیٰ کے فضل تھے اتنا ہی آپ کا تضرع، خشوع و خضوع سے خدا کے حضور گرنا بڑھتا گیا۔حتی کہ آپ کی آخری اور ابتدائی عمر کی عبادتیں اگر ملا کر دیکھی جائیں تو بڑا فرق نظر آتا ہے وفات کے قریب اور ہی شان کے آنحضرت سلیشیا کی تم تھے