خطبات محمود (جلد 4) — Page 415
خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۵ سال ۱۹۱۵ بہ نسبت اس کے جو ابتداء میں تھے کیونکہ مومن کا ہر قدم آگے ہی آگے پڑتا ہے نہ کہ پیچھے اور آپ تو وہ تھے جو دنیا کو مومن بنانے کیلئے آئے تھے۔چنانچہ آپ کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى کہ تیری آخری گھڑی پہلی سے اچھی ہے اس بات پر غور کرنے سے صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ واقعی دعا ایک چیز ہے اور وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ دعا میں کچھ اثر نہیں ہوتا یہ بھی ایک عبادت ہی ہے، غلط کہتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ مومن کا کوئی کام فضول اور لغو نہیں ہوتا اگر دعا میں کچھ اثر اور نتیجہ نہیں ہے تو یہ کہنے کے کیا معنے کہ اے خدا! ایسا کر دے۔اگر دعا عبادت ہے تو بجائے اس کے یہ کہنا چاہیئے تھا کہ اے خدا! میں تیری بڑائی کرتا ہوں۔دُعا میں عاجزانہ درخواست کے کلمات رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔پھر اس بات پر اتنا تسلسل کہ ہر مصیبت ، ہر مشکل اور ہر تکلیف کے وقت دعاؤں پر زور دیا جاتا تھا۔اس کی کیا وجہ تھی اور دلائل اور براہین کو چھوڑ کر اگر کوئی انبیاء کی زندگی پر ہی غور کرے تو اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ دعا میں واقعی بڑی بڑی خوبیاں ہیں۔اور قرآن شریف تو بہت زور سے دعوی کرتا ہے کہ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جب بھی کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعاؤں کو سنتا ہوں۔پس قرآن شریف نے صاف فیصلہ کر دیا ہے کہ دعا قبول کی جاتی ہے۔لیکن جہاں دعا قبول ہوتی ہے اور خدا کے نبیوں اور آسمانی کتابوں نے اس بات پر بہت زور دیا ہے وہاں اس کے متعلق بہت سی احتیاطوں کی ضرورت بھی بتائی ہے اور شرائط کی پابندی کا بھی حکم دیا ہے۔جب تک کوئی شرائط کو پورا نہیں کرتا دعا کے ثمرات کے حاصل کرنے کا مستحق نہیں ہوتا۔بعض لوگوں نے دعا کی قبولیت کے متعلق دھوکا کھایا ہے۔کہتے ہیں ہم نے فلاں دعا کی تو تھی جو قبول نہیں ہوئی اس سے نتیجہ نکلا کہ دعا قبول ہی نہیں ہوتی۔بعض لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہر ایک کی دعا قبول نہیں ہوتی ہاں خاص لوگوں کی ہوتی ہے اور ایسے لوگ جو کچھ بھی اپنے منہ سے نکالیں فوراً منظور ہو جاتا ہے اس قسم کے لوگ بھی ابتلاء میں پڑتے ہیں۔پہلا خیال اگر انسان کو دہریت کی طرف لے جاتا ہے تو دوسرا خیال انبیاء کی تعلیم محبت اور ایمان لانے سے محروم کر دیتا ہے کیونکہ جولوگ دعا کے قائل ہی نہیں ان کا ایمان اللہ تعالیٰ سے اُٹھ جاتا ہے اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں کے منہ سے اِدھر دعا نکلی اُدھر قبول ہو گئی وہ جب کسی انسان کو اپنے خیال کے مطابق نہیں پاتے تو ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔میں نے دیکھا۔ہے؟