خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 362

خطبات محمود جلد ۴ صاف ہو جائے۔۳۶۲ سال ۱۹۱۵ء بہت لوگ ابتلاؤں سے ٹھو کر کھا جاتے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ طمع اور خوف کے بغیر ایمان کامل ہو ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ کے نبیوں سے بڑھ کر کون انسان اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے مگر ان کیلئے بھی یہ دونوں باتیں ہوتی ہیں کوئی نبی ایسا نہیں آیا کہ جس کو دونوں قسم کے حالات سے نہ گزرنا پڑا ہو۔چونکہ ہماری جماعت سے خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں اس لئے یاد رکھو کہ اگر ہم ان وعدوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں تو دوسری طرف اس بات کیلئے بھی تیار رہنا چاہیئے کہ ایسے وعدوں کے پورا ہونے کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلاء بھی آتے ہیں اور جو ان میں ثابت قدم رہتے ہیں انہی کو کامیابی ہوتی ہے۔اگر کوئی انسان جو آرام اور راحت میں رہ کر ہر وقت کامیابی ہی کامیابی چاہتا ہے تو وہ سنت اللہ سے واقف نہیں ہے، ممکن ہے اسے آج ہی ٹھوکر لگے یا کل۔پس تمہیں جہاں کا میابی کی امید ہو وہاں خدا تعالیٰ کے ابتلاؤں کیلئے بھی تیار رہنا چاہئیے۔اللہ تعالیٰ ہمارے قدموں کو محسر یسر ، آرام و تکلیف میں ثابت رکھے اور اپنے فضلوں سے ہماری کمزوریوں پر نظر ترحم کرتے ہوئے ہمارے لئے ترقیوں اور کامیابیوں کے راستے کھول دے۔(آمین) الفضل ۳۔جون ۱۹۱۵ء) ل السجده : ۱۸،۱۷ الفاتحة: ٢ تام