خطبات محمود (جلد 4) — Page 323
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء کیا تم یہ خیال کرتے ہو تمہارے تنزل کے دن آگئے ہیں نہیں آئے اور نہیں آئیں گے اور ہماری نسلوں درنسلوں تک نہیں آئیں گے بلکہ ترقی ہی ہوتی رہے گی۔لیکن جہاں ایک طرف رحمت آئے گی وہاں دوسری طرف دشمن کیلئے اور زیادہ تیاری کرنی ہوگی ایک جگہ ٹھہر جانا اچھا نہیں جو لوگ بڑھتے ہیں وہ بڑھتے ہی ہیں اور جب نہیں بڑھتے تو پھر گھٹتے ہیں۔پس تم یہ خیال مت کرو کہ پچھلے سال جو چندہ دیا تھا تو اب کیا دیں۔جو اس جماعت میں رہے گا اسے ہمیشہ ہی چندہ دینا پڑے گا تمہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئیے اگر تم کو دین کیلئے اپنا مال خرچ کرنا پڑتا ہے تو تمہارے دشمن بھی تو کرتے ہی ہیں۔ہاں جو تمہیں امیدیں ہیں وہ تمہارے دشمنوں کو نہیں ہیں اس وقت روپیہ کی بہت سخت ضرورت ہے۔قرآن شریف کا ترجمہ شائع کرنے میں جتنی جلدی ہو سکے اتنی ہی کرو تا کہ جس قدر کسی کی زندگی میں قرآن کا ترجمہ شائع ہو جائے وہی اس کیلئے بہتر ہو۔تمہارے لئے یہ روحانی لڑائی میں حملے کے دن ہیں مرنے کے بعد تو آرام ہوتا ہے یا سزا ہوتی ہے جو کچھ کیا جانا چاہئیے اس کا یہی وقت ہے۔تم قادیان کے رہنے والے باہر کے لوگوں کیلئے نمونہ ہو اور وہ اور وں کیلئے نمونہ بنیں تا کہ دشمن ہم میں کسی قسم کی کمزوری نہ پائے اور ہم بُنْيَانِ مَرْصُوص ہوتے چلے جائیں۔دشمنوں کی کوئی بات ہم پر اثر نہ کرے لیکن ہماری باتیں ان کیلئے مؤثر ہوں اور ہم ان پر غالب ہی رہیں۔ایک دوست نے مجھے کہا ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا ہے کہ زیور اسی غرض کیلئے بنایا جاتا ہے کہ گھر کی ضرورت کے وقت کام آئے۔جب ہم اپنے گھر کی ضرورت پر زیور خرچ کر سکتے ہیں تو اس وقت جبکہ دین کیلئے خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو کیوں خرچ نہ کریں۔اس لئے ہم اپنا سارا زیور دیتے ہیں۔ایک اور دوست نے کہا ہے کہ میں اپنی ساری زمین دیتا ہوں آپ اسے فروخت کر کے اشاعت اسلام میں لگا دیں۔گو ہر ایک کے لئے ایسا کرنا مشکل کام ہے مگر خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے والے ضرور بڑے بڑے اجر کے مستحق ہوتے ہیں۔اس وقت واقعہ میں بڑی ہمت کی ضرورت ہے دنیا میں لوگ جس حالت کو آرام کہتے ہیں اصل میں وہ ذلت کی اور ستی کی زندگی ہوتی ہے۔مومن کی راحت کام کرنے میں اور دشمن پر حملہ کرنے میں ہے اور اس زمانہ میں تلوار کا حملہ نہیں بلکہ دلائل و براہین اور دعا کا حملہ ہے۔مومن کی جنت اس کے دل میں ہوتی ہے۔اچھے کھانے ، عمدہ کپڑے پہنے میں