خطبات محمود (جلد 4) — Page 322
خطبات محمود جلد ۴ ۳۲۲ سال ۱۹۱۵ء تم ایک منٹ کی بھی سستی نہ کرو۔میں اس بات سے حیران ہوتا ہوں کہ موجودہ جنگ میں عورتیں اور بچے بھی حصہ لے رہے ہیں اور اس بات کیلئے اپنی جانوں کو قربان کر رہے ہیں کہ ہم اپنی آزادی نہیں کھو سکتے گووہ اپنی خیالی آزادی کیلئے قربان ہو رہے ہیں۔مگر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اگر ایک مارا جاتا ہے تو دواس کی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔مرد مرتے ہیں تو عورتیں اور بچے ان کی جگہ کام کرتے ہیں اور ذراستی نہیں کرتے۔تمہیں تو اس سے بھی بڑھ کر اپنے کام میں ہوشیار ہونا چاہیئے۔اس وقت اس انجمن کی ضروریات کے پورا کرنے کیلئے میرا ارادہ اعلان کرنے کا ہے۔ہماری جماعت کو خیال رکھنا چاہئیے کہ دنیا سے ہمارا مقابلہ چند مہینوں اور سالوں کا نہیں ہے بلکہ تمام عمر کا ہے۔اور یہ بہت خطرناک جنگ ہے کیونکہ اس جنگ کی نسبت انبیاء کہتے آئے ہیں کہ اس زمانہ میں شیطان کی آخری جنگ ہو گی۔گورنمنٹ انگلشیہ نے اندازہ لگایا ہے کہ جرمن کے ساتھ اصل جنگ وہ ہوگی جب ہم اس کے ملک میں داخل ہوں گے اور اس کیلئے ابھی سے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہمارا مقابلہ تمام دنیا سے ہے اور تمام دنیا کو ہم نے فتح کرنا ہے لیکن ہماری جنگ اور دنیا کی جنگ میں فرق ہے کیونکہ تلوار بندوق اور توپ سے اگر کسی فوج کے سپاہی مارے جاتے ہیں تو وہ پھر کسی کام کے نہیں رہتے لیکن اس روحانی جنگ میں جو مارا جاتا ہے وہ اپنا ہو جاتا ہے اور ہمارے ہاں آکر زندہ ہو جاتا ہے اور اس طرح ہمیں مدد ملتی ہے مگر پھر بھی ہمیں بڑی کوشش کی ضرورت ہے۔قوموں کے غلبے سینکڑوں سال کے بعد ہوا کرتے ہیں پس جو کوئی قوم میں سے سستی کرتا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ اس کو ہٹا کر پیچھے کر دیا جائے تا کہ اس کو دیکھ کر اور شست نہ ہو جائیں۔ہمارا اس وقت یہ حال ہے کہ ہم روحانی جنگ کی صف اولین میں کھڑے ہیں اس لئے ہمیں بہت ہوشیاری سے کام لینا چاہیئے۔میں قوم کو ہوشیار کرنے کیلئے ایک اعلان کرنے والا ہوں مگر اول مرکز والوں کو چاہئیے کہ ابتداء کریں یہاں ایک جلسہ کیا جائے اور ماہوار چندے مقرر کر دیئے جائیں۔جتنا چندہ کوئی اپنی مرضی سے لکھائے لکھ لیا جائے اور تم یہ نہ سمجھو کہ پچھلے سال جو چندہ دیا تھا اب کس طرح دیں۔کیونکہ یہ زمانہ فتوحات کا ہے اس میں آرام سے بیٹھنا نہیں چاہیئے۔یاد رکھو کہ جب کسی قوم کا حملہ رُک جاتا ہے اور وہ آرام سے بیٹھ جاتی ہے تو وہ اس کے تنزل کا پہلا دن ہوتا ہے کیونکہ جس دن کوئی امن کی نیند سوئے گا وہ پہلا دن اس کے گرنے کا ہوگا۔پس