خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 310

خطبات محمود جلد ۴ ۳۱۰ سال ۱۹۱۵ء بند کر لے تو یہ اس کا قصور ہے نہ کہ خدا تعالیٰ اس کے انعامات کو بند کر دیتا ہے۔اس وقت ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ قرآن کریم ہی ہے اس میں جتنا زیادہ کوئی غور اور تدبر کرے اتنی ہی زیادہ معارف اور حقائق کی کھڑکیاں کھلتی جاتی ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے کہ مومن اور کافر کیلئے قبروں میں جنت اور دوزخ کی کھڑکی کھولی جاتی ہے۔مومنوں کیلئے اس میں سے جنت کی ہوا آتی رہتی ہے اور کافروں کو دوزخ کی لو اس میں سے پہنچتی ہے ۳ پھر اگر حدیثوں پر غور کیا جائے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسی دنیا میں یہ دونوں باتیں ہوتی ہیں قبر میں جو کھڑ کی کھلے گی وہ تو کھلے گی ہی مگر اس دنیا میں بھی یہ کھڑ کی کھل جاتی ہے۔اور وہ ہے اس طرح کہ خدا تعالیٰ کی باتوں اور احکام کو ماننے والوں کیلئے دنیا میں ہی جنت کی کھڑ کی کھول دی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی باتوں اور حکموں کو رد کرنے والوں کیلئے اسی دنیا میں ہی دوزخ کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔قرآن شریف کو میں سمجھتا ہوں کہ جنت کی کھڑکی ہے جتنا اس پر غور کیا جائے اُتنا ہی یہ کھڑ کی کھلتی جاتی ہے اور اس قدر فراخ ہو جاتی ہے کہ اسی دنیا میں اس کھڑکی کے ذریعہ خدا تعالیٰ کو، ملائکہ کو، جنت کو ، دوزخ کو، عذاب قبر کو انسان دیکھ لیتا ہے اور یہ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جب انسان اس پر غور اور تعشق کی نظر ڈالتا ہے تو آئندہ کی وہ باتیں جو ہوتی ہوتی ہیں وہ روشن ہو جاتی ہیں۔اور انسان اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک ایسا راستہ بن جاتا ہے جس پر وہ چل کر خدا تک پہنچ جاتا ہے گویا قرآن کریم ایک ایسا ذریعہ اور واسطہ ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہے جس کے ذریعہ انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔پس ہمارے دوستوں کو چاہیئے کہ قرآن شریف پر بہت غور کر کے اس سے فائدہ اور نفع حاصل کریں۔اور خوب یا درکھیں کہ کوئی علم ایسا نہیں جو انسان کی روحانیت کو بڑھانے والا ہو اور وہ قرآن میں نہ ہو۔کوئی ایسی بات نہیں جس سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور اس کا ذکر قرآن شریف نے نہ کیا ہو۔جب انسان کی تمام ضروریات اس کے اندر ہیں تو اس مخزن اور خزانہ کو کھو دینا بڑی نادانی اور کم عقلی کی بات ہے۔لوگ بڑی بڑی کوششیں اس بات کیلئے کیا کرتے ہیں کہ ایک کتاب میں سب قسم کی باتوں کو جمع کر دیں اور کوئی بات ایسی نہ ہو جو باہر رہ جائے۔اس مقصد کیلئے انسائیکلو پیڈیا بناتے ہیں مگر پھر بھی بہت سی با تیں باہر رہ ہی جاتی ہیں۔اور نئے نئے علوم اور باتیں نکل کر ان کے مجموعہ کو نامکمل کر دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ