خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 668 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 668

خطبات محمود جلد سوم فوراً انہیں آزاد کر دوں گا۔حضرت خدیجہ نے کہا مجھے منظور ہے۔چنانچہ حضرت خدیجہ نے اپنا سران اور سارے غلام آپ کو دے دیئے اور آپ نے اسی وقت سارے غلاموں کو آزاد کر دیا۔کہ اب آپ نے جس وقت یہ فرمایا اگر تم نے اپنے غلام مجھے دے دیئے تو میں غلامی کو پسند نہیں کرتا میں انہیں آزاد کردوں گا تو حضرت خدیجہ سمجھ گئی ہوں گی کہ میری دولت نہ میرے کام آئے گی نہ ان کے کام آئے گی یہ تو دولت کو لٹا دینے والی بات ہے۔جب رسول کریم ﷺ کو پہلا الہام ہوا تو حضرت خدیجہ نے فرمایا آپ تو مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں جو لوگ جائز طور پر مقروض ہوتے ہیں آپ ان کے قرض اتارنے میں ان کی مدد کرتے ہیں جن میں بوجھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی آپ ان کے بوجھ اٹھانے میں مدد دیتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ اپنی ساری آمد خدا کے رستہ میں خرچ کر دیتے ہیں اس کے بعد حضرت خدیجہ کی زندگی امیروں والی نہیں تھی۔پس حضرت خدیجہ نے صرف یہی نہیں کیا کہ ایک غریب شخص سے شادی کی بلکہ اس کے ساتھ شادی کرنے کے بعد انہوں نے اس بات کو بھی نظر انداز کر دیا کہ ان کا مال ان کے لئے آرام کا موجب ہو گا وہ بھی اپنے خاوند کے حوالہ کر دیا کہ وہ اسے لٹا دے۔یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے رسول کریم اے کے دل میں آپ کی انتہائی محبت تھی۔آخر زندگی میں بھی حضرت خدیجہ کا بڑا ادب اور عزت اور احترام تھا مدینہ کی طرف ہجرت سے دو تین سال پہلے حضرت خدیجہ فوت ہو گئی تھیں ہجرت کے بعد آپ کی حضرت عائشہ سے شادی ہوئی جو حضرت خدیجہ سے عمر کے لحاظ سے بھی جو ان تھیں، خوبصورت بھی تھیں اور دین کا علم رکھنے والی بھی تھیں۔آپ کا نکاح تو ملکہ میں ہی ہو گیا تھا لیکن رخصتانہ مدینہ میں جا کر ہوا۔پھر آپ کی اور بھی بیویاں تھیں وہ حضرت خدیجہ سے عمر کے لحاظ سے جو ان بھی تھیں اور ان کے خاندان کی نسبت معزز خاندانوں کی لڑکیاں تھیں لیکن اس کے باوجود حضرت خدیجہ کی وہ قربانی آپ کو ہمیشہ یاد رہتی۔حضرت عائشہ کی رسول کریم ﷺ سے جب شادی ہوئی تو اس وقت رسول کریم دنیا کی نگاہ میں بڑے نہیں تھے لیکن مومنوں کی نظر میں یقیناً آپ بڑی شان کے مالک بن چکے تھے دعوی نبوت ہو چکا تھا اور خدا تعالیٰ کا کلام آپ پر نازل ہو چکا تھا اس لئے حضرت ابو بکر نے اپنی لڑکی کسی غریب شخص کو نہیں دی بلکہ محمد رسول کریم ﷺ کو دی لیکن حضرت خدیجہ نے باوجود مالدار ہونے کے ایک غریب شخص سے جس کو کسی قسم کی وجاہت حاصل نہیں !