خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 667 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 667

خطبات محمود षष6 جلد سوم انہوں نے اپنی ایک سہیلی کو بیچ میں ڈالا اور اس سے کہا وہ معلوم کرے کہ اگر انہیں شادی کی تحریک کی جائے تو کیا وہ راضی ہو جائیں گے۔رسول کریم ﷺ کو ابھی روحانی برتری حاصل نہیں ہوئی تھی صرف اخلاقی برتری آپ کو حاصل تھی اور لوگ آپ کو دیانتدار، سچا اور امین سمجھتے تھے۔آپ کا خدا تعالیٰ سے تعلق کا ابھی اظہار نہیں ہوا تھا لیکن محض آپ کی دیانت اور امانت کو دیکھ کر اس مالدار عورت نے جو مکہ کے بڑے مالداروں میں سے ایک تھیں خود تحریک کی کہ آپ اس سے شادی کرلیں۔پھر خالی شادی کی ہی تحریک نہیں کی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک مالدار عورت کسی غریب مرد سے شادی کا اظہار کرے مگر اس کے دل میں یہ ہو کہ اس کے پاس کھانے پینے کو تو ہے ہی اگر کوئی معقول آدمی مل جائے جس سے وہ شادی کرلے تو اسے دولت کی ضرورت نہیں وہ سمجھتی ہے روپیہ میرے پاس ہے اور عقل اور سمجھ اس کی ہوگی اور اس طرح زندگی آرام سے گزر جائے گی۔یہ جذبہ بھی اپنی جگہ پر برا نہیں لیکن حضرت خدیجہ کا جذبہ بہت اعلیٰ تھا۔کیونکہ جب حضرت رسول کریم ﷺ کی شادی ان سے ہوئی تو انہوں نے جلد محسوس کر لیا کہ ان کی شادی ایسے شخص سے ہوئی ہے جو غیرت مند ہے۔اس کے پاس پیسہ بھی نہیں اور میرے پاس بڑی دولت ہے میں اس کے آگے کھانا رکھوں گی تو اس کے ذہن پر یہ اثر ہو گا کہ یہ کھانا اس کی بیوی نے دیا ہے، میں اسے کپڑے بنا کر دوں گی تو وہ سمجھے گا یہ اس کی بیوی نے بنا کر دیئے ہیں میں اسے روپے دوں گی تو وہ سمجھے گا یہ اس کی بیوی نے دیئے ہیں اور وہ یہ بات برداشت نہیں کرے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اسے غیرت مند بنایا ہے۔چنانچہ حضرت خدیجہ نے شادی کے بعد رسول کریم ﷺ سے عرض کیا (ہم تو آپ کو رسول کریم اے کہتے ہیں لیکن اس وقت تک آپ کو یہ مقام عطا نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ رسالت سے پندرہ سال پہلے کی بات ہے) کہ میں ایک خواہش کا اظہار کرتی ہوں آپ اسے قبول فرمالیں۔آپ نے فرمایا کیا بات ہے۔حضرت خدیجہ نے کہا میں گواہوں کو بلا کر اپنا سارا مال آپ کو دینا چاہتی ہوں آپ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔شاید یہ بات بھی رسول کریم ﷺ پر گراں گزرتی مگر حضرت خدیجہ نے عرض کیا میں اپنے سارے غلام بھی آپ کو دیتی ہوں۔رسول کریم ﷺ چونکہ غلامی کو پسند نہیں فرماتے تھے اس لئے یہ بات بھی اس بات کا محرک ہو گئی کہ آپ حضرت خدیجہ کی پیشکش کو قبول فرمالیں۔آپ نے فرمایا خدیجہ ! تم خوب سوچ سمجھ لو ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتاؤ۔میں غلام رکھنا پسند نہیں کرتا اگر تم نے اپنے غلام مجھ کو دے دیئے تو میں -