خطبات محمود (جلد 3) — Page 669
خطبات محمود ۶۶۹ تھی شادی کرنا منظور کر لیا۔پس ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔پھر آپ مدینہ تشریف لے گئے تو خدا تعالیٰ نے آپ کو دنیوی شان بھی عطا کی آپ میں شاہانہ باتیں نہیں پائی جاتی تھیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ مدینہ میں جن عورتوں سے آپ کی شادیاں ہو ئیں ان کے اور ان کے متعلقین کے سامنے آپ کی ظاہری شان بھی قائم ہو چکی تھی لیکن حضرت خدیجہ نے محض دین کی خاطر آپ سے شادی کرنا منظور کیا۔یہ ایک ایسی چیز تھی جسے رسول کریم ﷺ اپنی عمر بھر نہیں بھلا سکے۔حضرت عائشہ نوجوان بھی تھیں، خوبصورت بھی تھیں، دیندار بھی تھیں، ان کا باپ آپ کا سب سے زیادہ مقرب بھی تھا، ان کا اجتہاد اور فہم سب عورتوں سے بالا تھا۔حتی کہ رسول کریم ﷺ کو یہ کہنا پڑا کہ آدھا دین تم عائشہ سے سیکھو۔سے لیکن باوجود اس کے کوئی موقع ایسا نہیں آتا تھا کہ آپ فرماتے خدیجہ کی یہ بات تھی۔خدیجہ کی وہ بات تھی۔حضرت عائشہ کے دل میں اکثر یہ خیال آتا کہ وہ دیندار بھی ہیں عالم بھی ہیں نوجوان بھی ہیں، پھر آپ کی خدمت گار بھی ہیں اور خدیجہ عمر میں آپ سے بڑی تھیں جب شادی ہوئی تو ان کی عمر آپ کی عمر سے پندرہ سال زیادہ تھی پھر آپ بار بار ان کا نام کیوں لیتے ہیں۔چنانچہ ایک دن حضرت عائشہ نے چڑ کر کہا یا رسول اللہ ! آپ ہر وقت خدیجہ خدیجہ کیوں کرتے رہتے ہیں کیا خدا تعالیٰ نے آپ کو ان سے زیادہ خوبصورت، ان سے زیادہ نوجوان اور ان سے زیادہ خدمت گار بیویاں نہیں دیں؟ آپ نے فرمایا عائشہ تم جانتی نہیں کہ خدیجہ کے اندر کیا نیکی تھی اور اس نے کس طرح میری خدمت کی۔سے اس کی یہی وجہ تھی کہ حضرت خدیجہ نے رسول کریم کا نور اس وقت دیکھا جب کوئی اور دیکھنے والا نہیں تھا، انہوں نے آپ پر اس وقت ساری دولت قربان کی جب کوئی دوسرا آپ کے لئے ایک پیسہ بھی خرچ کرنے والا نہیں تھا۔حتی کہ احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم ای مجلس میں بیٹھے تھے اور عورتوں کو سبق دے رہے تھے کہ حضرت خدیجہ کی کوئی بہن مجلس میں آئیں ان کی آواز حضرت خدیجہ کی آواز سے بہت حد تک ملتی تھی۔حضرت خدیجہ مکہ میں ہی ہجرت سے قبل فوت ہو چکی تھیں اور آپ مدینہ میں بیٹھے عورتوں کو وعظ فرما رہے تھے کہ اتنے میں وہ آئیں۔اور انہوں نے کوئی بات کہی۔اب باوجود اس کے کہ حضرت خدیجہ کی وفات پر سات آٹھ سال گزر چکے تھے اور باوجود اس کے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق مردے دوبارہ اس دنیا میں نہیں آتے اس کی آواز سنتے ہی آپ کی حالت یوں ہو جاتی ہے کہ جیسے کوئی شخص دنیا سے کھویا جاتا ہے۔آپ نے