خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 647

خطبات محمود ۶۴۷ جلد سو۔سوال اس کے سامنے آجاتا ہے۔سو جہاں تک گزارے کا سوال تھا وہ تو ایسا مشکل نہ تھا البتہ چونکہ رہائش وہ اپنے ماں باپ کے پاس رکھتی تھیں اور اب بھی رکھتی ہیں اس لئے مختلف مواقع پر مختلف قسم کی عیب جوئیاں اور طعنے برداشت کرنے پڑے۔ان کے تعصب کا یہ حال تھا کہ ان کے کسی رشتہ دار کو ذیا بیطس کی شکایت تھی اور چوہدری صاحب کو بھی چونکہ یہ شکایت ہے تو سعیدہ نے چوہدری صاحب سے کہا کہ اس ڈاکٹر کے پاس اس عزیز کے بارہ میں سفارش کردیں جو چوہدری صاحب نے قبول کر لی لیکن اس عزیز سے جب اس سفارش کا ذکر کیا گیا تو اس نے کہا کہ وہ ایک مسلمان کی سفارش قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔جس وقت سے وہ مسلمان ہوئی ہیں برابر تبلیغ میں لگی رہتی ہیں ٹریکٹ لکھتی ہیں تقسیم کراتی ہیں غرض ابتداء سے ہی انہوں نے بہت جوش سے کام کیا ہے۔قریب عرصہ میں انہوں نے وقف بھی کر دیا اور یہاں آنے کی تیاری بھی کر لی لیکن میں نے انہیں روک دیا کیونکہ ہمارے پاس عملہ نہیں جو انہیں تربیت دے سکے۔اس کے ساتھ ہی میں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک مسلمان عورت کی ایک مسلمان مرد سے ہی شادی ہونی چاہئے اور میں نے انہیں یہ تحریک کی تو انہوں نے قبول کر لیا اور یہ نکاح چوہدری شکر الہی صاحب سے قرار پایا۔دوسرا نکاح میاں عبد الحئی صاحب کا امتہ العزیز صاحبہ بنت ڈاکٹر بد رالدین احمد صاحب سے قرار پایا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی آمد کا معتدبہ حصہ سلسلہ کی ضروریات کے لئے ہی صرف ہوتا ہے۔عبد الحئی صاحب واقف زندگی ہیں اور مبلغ ہیں ان کو بچپن میں ان کے والد نے وقف کیا تھا۔پہلے ان کو ملایا میں مقرر کیا گیا اور آج کل وہ جزیرہ بالی میں کام کر رہے ہیں۔الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۵۱ء صفحہ ۲)