خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 648 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 648

جلد سوم ۶۴۸ ۱۴۱ سوائے خاوند کے تین دن سے زیادہ ماتم کی اجازت نہیں (فرموده ۲۷ جون ۱۹۵۱ء) ۲۷- جون ۱۹۵۱ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ بنت ملک خدا بخش صاحب لاہور کا نکاح پانچ ہزار روپے مہر پر نعمت اللہ خان صاحب ولد بابو محمد عالم خان صاحب مرحوم ایم بی ای - ممباسہ (کینیا) سے پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ایک ڈیڑھ ماہ قبل ملک عطاء المنان نے مجھ سے اس نکاح کے بارے میں مشورہ کرنے کے لئے آیا۔خدا تعالی کی مشیت ہے کہ وہ فوت ہو گیا لیکن خدا کی مشیت کی مختلف وجوہ ہوتی ہیں جنہیں انسان نہیں سمجھتا لیکن باوجود اس صدمہ کے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ نکاح سابقہ طے شدہ تجویز کے مطابق ہو جائے۔حیات و ممات کا سلسلہ تو انسان کے ساتھ لگا ہوا ہی ہے کوئی انسان اپنی تدبیر سے اسے الگ نہیں کر سکتا۔اسلام نے مرد چھوڑ عورتوں کو بھی سوائے خاوند کے تین دن سے زیادہ ماتم کی اجازت نہیں دی اور مجھ سے جب اس امر کا ذکر کیا گیا تو میں نے کہا کہ اس وجہ سے شادی نہیں رکنی چاہئے اور مجھے خوشی ہے کہ فریقین نے میری بات مان لی۔اللہ تعالٰی اس خوشی کی تقریب کو ہر طرح مبارک و با برکت بنا کر اس صدمہ رسیدہ خاندان کے زخم کے اند مال کا ذریعہ بنائے اور اس تعلق کو فریقین اور سلسلہ کے لئے مبارک کرے اس خاندان کے دو نوجوان مصروف جہاد ہیں اس لحاظ سے یہ آپ کی دعاؤں کے بجا طور پر مستحق ہیں۔