خطبات محمود (جلد 3) — Page 239
خطبات محمود ۲۳۹ جلد سوم ایک تمدنی غلطی کی اصلاح (فرموده ۲- جنوری ۱۹۲۸ء) ۲- جنوری ۱۹۲۸ء کو مرزا محمود بیگ صاحب کی لڑکی صادقہ بیگم صاحبہ کا نکاح چوہدری فتح محمد صاحب سیال سے ایک ہزار روپیہ صریر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دنیا میں خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمائے ہیں کہ انسان کی ایک حالت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔کبھی وہ رنج میں سے گزر رہا ہوتا ہے اور کبھی خوشی سے مسرت اندوز ہو رہا ہوتا ہے ایک وقت میں خوشی کے سامان پیدا ہو رہے ہوتے ہیں اور دوسرے وقت میں رنج کے۔بسا اوقات انسان مجبور ہوتا ہے کہ خوشی پر غالب آئے اور بسا اوقات مجبور ہوتا ہے کہ اپنے رنج پر غالب آئے یہ تمام سامان خدا تعالٰی نے اپنی حکمت کے ماتحت رکھے ہیں کیونکہ وہ انسان کو ترقی کے رستہ کی طرف لے جاتا ہے اور خوشی و رنج ہمیشہ انسان کو کھڑا کر لیتے ہیں۔خوشی کہتی ہے ٹھر جا ذرا میرا مزہ چکھ لے اور رنج کہتا ہے ذرا ٹھہر کر میری لذت چکھ لے۔دونوں اپنی طرف کھینچنے والی چیزیں ہیں۔لیکن خدا تعالی بندہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اس کے لئے اس نے یہ سامان مقرر کر رکھے ہیں کہ خوشی درنج ساتھ ساتھ دیئے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ایسے ملا دیئے گئے ہیں کہ جب خوشی اپنی طرف پورے زور اور ساری طاقت سے کھینچ رہی ہوتی ہے تو رنج پیدا کر کے اس کی طاقت کو کمزور کر دیا جاتا ہے۔اور جب رنج اپنی طرف کھینچ رہا ہوتا ہے تو خوشی کے ایسے سامان پیدا کر دیئے جاتے ہیں جو رنج کی طاقت کو توڑ دیتے ہیں۔تب وہ درمیانی رستہ