خطبات محمود (جلد 3) — Page 240
خطبات محمود جلد سوم جس کے ذریعہ انسان خدا تعالی تک پہنچتا ہے آپ ہی آپ اس کے سامنے آجاتا ہے۔میں اس وقت جس نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔یہ بھی اس قسم کی حالت کا ایک نمونہ ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے۔ایک مہینہ بھی نہیں ہوا کہ اچانک چوہدری فتح محمد صاحب کی اہلیہ فوت ہو گئیں۔ان کی اپنی ذاتی لیاقت اور نیکی کی وجہ سے اور خاندانی شرافت کے باعث کیونکہ وہ حضرت خلیفہ اول کی نواسی تھیں چوہدری فتح محمد صاحب کو ان کی وفات پر جائز طور پر صدمہ ہونا چاہئے تھا اور ہوا۔ایسی حالت میں لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اس رنج کی حالت کو لمبا ہونا چاہئے اور بسا اوقات لوگ اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں کہ فلاں آدمی کیسا سنگدل ہے بیوی کی وفات کے صدمہ کو اتنا جلدی بھول گیا اور اس نے دوسرا نکاح کر لیا۔خصوصاً عورتیں اس قسم کے اعتراض کیا کرتی ہیں کہ فلاں مرد نے اپنی بیوی کے مرنے کے بعد اتنی جلدی شادی کرلی مگر عورتیں اتنا اتنا عرصہ بیٹھی رہتی ہیں۔اگر اس حقیقت پر غور کیا جائے جو میں نے بیان کی ہے اور ان ضرورتوں کو دیکھا جائے جو عورتوں کے ہی فائدہ کے لئے ہوتی ہیں تو بسا اوقات مرد اپنے نفس کو مجبور کر کے اور جذبات کو دبا کر دوسری شادی کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔اس کے احساسات اور جذبات چاہتے ہیں کہ ابھی غم کی حالت کا مزا چکھے لیکن مرنے والی کے فائدہ اور نفع کے لئے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس غم کے دائرہ کو تنگ کرے بسا اوقات پہلی بیوی کی چھوٹی چھوٹی اولاد ہوتی ہے جس کی پرورش اور تربیت مرد بوجہ دوسرے کاموں کے جو گھر سے باہر اس نے کرنے ہوتے ہیں نہیں کر سکتا۔لیکن اگر مرد فوت ہو جائے تو عورت بچوں کی نگرانی اور تربیت کر سکتی ہے چونکہ عورت کے فوت ہو جانے کی وجہ سے بچوں کی زندگی ضائع ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے مرد مجبور ہوتا ہے کہ مرحومہ بیوی کی اولاد کی خاطر شادی کرے۔ایسی شادی بظاہر بے وقوفوں کے لئے قابل اعتراض ہوتی ہے مگر عقلمندوں کے نزدیک ضروری ہوتی ہے اگر اس مرد کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑ دیا جاتا تو وہ اتنی جلدی شادی کے لئے تیار نہ ہوتا۔مگر ان بچوں کی تربیت کے لئے جن کی تربیت مرحومہ کا پہلا اور سب سے ضروری فرض تھا وہ اپنے نفس کو مجبور کر کے اس بات کے لئے تیار ہوتا ہے کہ اپنے گھر میں ایسے انسان کو لائے جو گھر کو آباد رکھنے کی کوشش کرے۔ہمارے ملک میں چونکہ حقیقت پر غور کرنے کی عادت نہیں رہی اور یہ سارا نتیجہ اس بات