خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 238

خطبات ۲۳۸ جلد سوم عائشہ کے پاس گئی تو وہ کھانا کھا رہی تھیں اور ساتھ ہی روتی جاتی تھیں۔میں نے پوچھا کیا بات ہے تو انہوں نے کہا مجھے ایسے اچھے آٹے کی روٹی دیکھ کر یہ خیال آرہا ہے کہ رسول کریم کے زمانہ میں چکی اچھی طرح کی نہ ہوتی تھی اور آٹا موٹا بنتا تھا۔سے اس وقت اگر رسول کریم اے ہوتے تو میں اس آٹے کی روٹی پکا کر ان کو کھلاتی۔عام طور پر عورتیں خاوندوں کی وفات پر اس قسم کے خیالات پر روتی ہیں کہ فلاں نے یہ دکھ دیا ہے اگر خاوند زندہ ہوتا تو یہ دکھ نہ پہنچتا۔یا کھانے پینے کی تکلیف ہوتی ہے خاوند ہو تا تو نہ ہوتی۔مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا خوشی کے وقت روتی ہیں اس لئے نہیں کہ رسول کریم اگر ہوتے تو کھانے پینے کی چیزیں لا کر دیتے یا کپڑے بنوا کر لاتے۔بلکہ اس لئے کہ یہ آرام جو مجھے پہنچ رہا ہے یہ مجھ اکیلی کو حاصل نہ ہوتا بلکہ آپ کو بھی پہنچتا۔اس طرح وہ کھانا جو لطف و سرور کا باعث ہو سکتا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے لئے دکھ اور تکلیف کا موجب ہوتا۔کیونکہ اس میں ان کا محبوب شامل نہ تھا۔اللہ تعالٰی جب قلوب پر تصرف کرتا ہے تو یہی حالت ہوتی ہے۔پس تقوی کو مد نظر رکھ کر شادی کرنی چاہئے۔جب ایسا کیا جائے تو خدا تعالٰی اپنے فضل سے ان مخفی نقائص کو جن تک انسان کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی یا جن کی اصلاح اس کے اختیار سے باہر ہوتی ہے خیر میں بدل دیتا ہے۔اس وقت میں خان نعمت خاں صاحب سب حج امر تسر کی لڑکی اقبال بیگم کا نکاح ایک ہزار روپیہ مہر پر اوصاف علی خان صاحب سے پڑھے جانے کا اعلان کرتا ہوں۔اخبار الفضل ۱۷ جنوری ۱۹۲۸ء صفحہ ۷۶ لے اور خداوند نے کہا کہ آدم کا اکیلا رہتا اچھا نہیں میں اس کے لئے ایک مددگار اس کی مانند بناؤں گا“۔پیدائش باب ۲ آیت ۱۸ بائیل سو سائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء) له الاحزاب : ۷۲۷۱ له ترمذی ابواب الزهد باب ما جاء فى معيشة النبي واهله