خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 47

خطبات محمود جلد ہوا جس قدر محبت تھی وہ بھی بے نظیر تھی۔جنگ یرموک کا واقعہ ہے۔سات زخمی پڑے تھے ان میں سے ایک کے پاس جب پانی لایا گیا تو اس نے کہا دوسرے کو پلاؤ۔دوسرے کے پاس لے گئے تو اس نے کہا تیسرے کو پلاؤ۔تیسرے کے پاس لے گئے تو اس نے کہا چوتھے کو پلاؤ۔حتی کہ ساتویں کے پاس لے گئے لیکن وہ فوت ہو چکا تھا۔واپس لوٹے تو دوسرے بھی فوت ہو چکے تھے کہ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کی آپس میں کیسی محبت، کیسا پیار تھا اور وہ ایک دوسرے کے لئے کس طرح ایثار کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔پس ایک نبی کو مان کر اور ایک خدا کی مخلوق مان کر ہر شخص کا فرض ہو جاتا ہے کہ آپس میں مخلصانہ تعلقات رکھے اور ایک بھائی دوسرے کے لئے ایثار کرے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایثار سے ایمان قائم رہتا ہے۔فرمایا۔ایک ایسا زمانہ آئے گا جب کہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں جھگڑیں گے اس وقت ایثار کرنا۔تو نبی جب آتے ہیں تو فضول حد بندیاں تو ڑ کر سب میں اتحاد و اتفاق پیدا کر دیتے ہیں اور وہ آپس میں رشتے ناطے کرنے میں کسی قسم کی عار نہیں سمجھتے۔باقی رہی کفو جو شریعت نے مقرر کی ہے وہ دینداری، تقویٰ اور آپس کے دنیاوی حالات کی مطابقت ہے جن کو مد نظر رکھنا نہایت ضروری ہے اور یہ تو بھائیوں بھائیوں میں بھی ہوتا ہے۔مثلاً ایک بھائی مالدار ہے اور دوسرا غریب۔ایسی حالت میں مالدار خیال کرے گا کہ میری لڑکی جو آرام و آسائش میں پلی ہے وہاں جائے گی تو تکلیف اٹھائے گی اور آپس میں شکر رنجی رہے گی یا لڑکے لڑکی کی طبائع میں فرق ہوتا ہے۔دینداری کے لحاظ سے یا علم کے لحاظ سے۔اس کا بھی خیال نہ رکھا جائے تو نتیجہ خراب لکھتا ہے۔اس قسم کی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔باقی قومیت وغیرہ کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا کیونکہ سب وحدت پر قائم ہوتے ہیں۔اور ایک خدا کو مانتے ہیں اور اس وحدت کا ثبوت رسول کریم ﷺ کے وقت بھی ملتا ہے اور اب حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ہی ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے۔کہاں کہاں سے لوگ آتے ہیں اور آپس میں رشتے ہو جاتے ہیں۔میرے نزدیک ایک وجہ مختلف جگہوں اور مختلف قوموں میں سے تھوڑے تھوڑے لوگوں کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق ملنے کی یہ بھی ہے کہ اس طرح قومیت وغیرہ کی بندشیں توڑی جائیں کیونکہ اگر ساری کی ساری قوم احمدی ہو جائے تو آپس میں رشتے کر سکتے ہیں اور جس طرح راجپوتوں میں چھتے ، دروازے اور چو کٹھے بنے ہوئے ہیں وہ اسی طرح احمدی ہونے پر بھی بنے رہیں۔مگر اب خدا تعالٰی نے ایک چھت والے کو احمدیت میں