خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 463

سمسم جلد سوم ہی بولتا چلا جاؤں۔تو جب تک لینے کا سوال تھا وہ آگے رہا مگر جب دینے کا سوال آیا تو پیچھے ہٹ گیا۔یہی حال انسان کا ہے جب انسان کو کہا جاتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کی صفات کا منظر ہے تو وہ بڑا خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ تو بڑی اچھی بات ہے چنانچہ وہ اس امر پر بنیاد رکھتے ہوئے کہنا شروع کر دیتا ہے خدا مالک ہے اس لئے میں بھی مالک ہوں، خدا قہار ہے اس لئے میں بھی قہار ہوں، خدا جبار ہے اس لئے میں بھی جہار ہوں مگر جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ رب بھی ہے، وہ رحمن بھی ہے، وہ رحیم بھی ہے، وہ غفار بھی ہے، وہ ستار بھی ہے تو وہ مڑ کر دوسرے انسانوں کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے ارے میں ہی خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنتا چلا جاؤں یا تم میں سے بھی کوئی بنے گا؟ گویا جہاں تک مالکیت، قہاریت اور جہاریت کا سوال ہو، جہاں تک بڑائی اور عظمت کے حصول کا سوال ہو وہ کہتا ہے کہ میں جو خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والا ہوں کسی اور کی کیا ضرورت ہے۔مگر جہاں رحیمیت کا سوال آجاتا ہے، جہاں رحمانیت کا سوال آجاتا ہے، جہاں ستار اور غفار ہونے کا سوال آجاتا ہے تو وہ یہ کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ اور جو دنیا میں لاکھوں لوگ ہیں وہ کیوں ان صفات کا مظہر نہیں بنتے۔اللہ تعالی کی ان ہی صفات میں سے جن کو انسان غلط طور پر استعمال کرتا اور جن پر کلیتہ حاوی ہو جانا چاہتا ہے، ایک صفت رقیب بھی ہے اور اسی کی طرف اس آیت میں جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے توجہ دلائی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یاد رکھو رقیب میں ہوں۔یعنی خدا ہی ہے جو لوگوں کا نگران ہے وہ زید کے اعمال کو دیکھتا اور پھر اس کے متعلق فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اچھا ہے یا برا۔پھر وہ بکر کا رقیب بنتا اور اس کے اعمال کی نگرانی کر کے اس کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اچھا ہے یا برا۔پس خدا رقیب ہے اور چونکہ انسانوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت رکھی ہے کہ وہ اس کی صفات کو اپنے اندر پیدا کریں اس لئے دنیا کے اکثر انسان لوگوں کے رقیب بننے کے بڑے شائق ہوتے ہیں چاہے وہ خدا کو مانیں یا نہ مانیں۔بیشتر حصہ دنیا کے لوگوں کا رقیب بننا چاہتا ہے، بیشتر حصہ دنیا کے لوگوں کا قادر بننا چاہتا ہے، بیشتر حصہ دنیا کے لوگوں کا جبار بننا چاہتا ہے، بیشتر حصہ دنیا کا قادر بننا چاہتا ہے، بیشتر حصہ دنیا کے لوگوں کا جبار بننا چاہتا ہے، بیشتر حصہ دنیا کے لوگوں کا قہار بننا چاہتا ہے۔صفات الہیہ کے مظہر ہو جانے کا کوئی قائل ہو یا نہ ہو وہ اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔جو تورات میں آتا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے اپنی شکل پر بنایا پھر بھی عملی طور پر