خطبات محمود (جلد 3) — Page 464
خطبات محمود موسم جلد سوم یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ کیوں نہ میں مالک بنوں، کیوں نہ میں رقیب بنوں۔اور اس طرح کہیں وہ تمام دنیا کے لوگوں کو نیچے گرا کر ان پر خود کھڑا ہو جانا چاہتا ہے، کہیں جبار بن کر ظاہر ہوتا ہے اور خدا تو جبار مصلح کے معنوں میں ہے مگر وہ جبار ظلم کے معنوں میں بنتا ہے، پھر کہیں وہ مالک بنتا ہے اور کہتا ہے سب دنیا میری ہے۔کہیں وہ ملک بنتا ہے اور چاہتا ہے کہ سب لوگ میری اطاعت کریں یہاں تک کہ اگر کوئی اس کی بات کا جواب بھی دے تو کہتا ہے نا معقول پاجی تم جانتے نہیں ہم کون ہیں۔حالانکہ وہ نہ اسے رزق دے رہا ہوتا ہے، نہ اس کا افسر ہوتا ہے، نہ اسے کپڑے دیتا ہے، نہ اسے کھانا دیتا ہے، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کی تنخواہ سو روپے ہوتی ہے اور دوسرے کی تنخواہ دس۔مگر اتنی سی بات پر وہ اسے نامعقول پاجی کہہ دیتا ہے، یا دوسرے کا صرف اتنا قصور ہوتا ہے کہ وہ سید، مغل، راجپوت یا برہمن نہیں ہو تا بلکہ کسی اور قوم میں سے ہوتا ہے اور یہ جو کسی اعلیٰ قوم میں سے ہوتا ہے دوسرے سے مخاطب ہو کر کہتا ہے شرم نہیں آتی کمینہ کہیں کا۔حالانکہ کمینہ وہ خود ہوتا ہے جو دوسروں کو اپنی حکومت جتاتا اور ان کے حقوق کو پامال کرتا ہے۔تو محض اس وجہ سے کہ اپنے زعم میں اسے کوئی فوقیت حاصل ہے وہ خیال کرتا ہے کہ کسی کا کوئی حق نہیں کہ میرے معاملات میں دخل دے ، کسی کا کوئی حق نہیں کہ مجھے نصیحت کرے، کسی کا کوئی حق نہیں کہ مجھے جواب دے، چاہے وہ کتنی ہی غیر معقول بات کہہ رہا ہو۔قومیں ہیں تو ان کا یہی طریق ہے اشخاص ہیں تو ان کا یہی رنگ ہے اور تعجب آتا ہے کہ محض اس وجہ سے کہ انسان میں اللہ تعالیٰ نے مالکیت اور قہاریت او جباریت اور قادریت کی طاقتیں رکھی ہیں وہ ان طاقتوں کا کس طرح ناجائز استعمال شروع کر دیتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے یہ طاقتیں انسان میں اس لئے رکھی تھیں کہ وہ تھوڑا سا رب بنے، تھوڑا سا رحیم ہے، تھوڑا سا غفور ہے، تھوڑا سا شکور بنے، تھوڑا سا سمیع بنے، تھوڑا سا بصیر بنے، تھوڑا سا جبار بنے، تھوڑا سا قہار ہے، تھوڑا سا مالک بنے مگریہ کیا کرتا ہے؟ یہ اپنے مطلب کی صفات لے لیتا ہے اور کہتا ہے سارا ملک میں، سارا جبار میں، سارا قہار میں اور سارے رحیم اور غفور اور شکور اور ستار اور غفار دو سرے۔یہ بعینہ ویسی ہی تقسیم ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی چالاک شخص تھا جس نے کسی سادہ لوح سے اشتراک کر کے کھیتی ہوئی اور کہا کہ ابھی سے آپس میں تقسیم کرلینی چاہئے دوسرے نے کہا یہ درست ہے ابھی سے ہم تقسیم کر لیں اور تقسیم یہی ہے کہ آدھا حصہ تم لے لینا اور آدھا میں لے لوں گا۔اس نے کہا اچھا ہے آدھا حصہ لے لینا مگر