خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 462

خطبات محمود۔سوم جلد سوم پس جو مقصد انسان کے سپرد کیا گیا ہے اس کے ماتحت ضروری تھا کہ یہ تمام قوتیں اس کے اندر ہو تیں۔چنانچہ انسان کو خدا تعالٰی نے سنے کی طاقت دی اور وہ سنتا ہے، دیکھنے کی طاقت دی اور وہ دیکھتا ہے، ایک حد تک خلق کی طاقت دی اور وہ بچے پیدا کرتا ہے۔چنانچہ میاں بیوی جب ملتے ہیں تو اس طاقت کے ماتحت ان کے ہاں بچے پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح مصور ہونے کی طاقت دی اور وہ بڑی بڑی عمارتوں کے نقشے تیار کرتا اور تصویریں بناتا ہے، اسے محی ہونے کی طاقت دی اور وہ بار یک در باریک بیماریوں کے معالجات کا علم رکھتا اور قریب المرگ بیماروں کو زندہ کر دیتا ہے، اسے میت ہونے کی طاقت دی اور وہ ایک مجرم کو پکڑتا اور اسے سزا کے طور قتل کر دیتا ہے۔غرض یہ ساری صفات اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر رکھی ہیں اور اس لئے رکھی ہیں کہ وہ دنیا میں خدا تعالٰی کی تصویر بن جائے جیسے ایک آئینہ جسے عربی زبان میں مراد کہتے ہیں دوسرے کی شکل دکھا دیتا ہے۔عربی کے الفاظ اپنی ذات میں معانی پر بھی دلالت کیا کرتے ہیں چنانچہ عربی میں آئینہ کو اسی لئے منانا کہتے ہیں کہ وہ دوسرے کے وجود کو دکھا دیتا ہے۔اسی طرح انسان کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بنایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تصویر دنیا کو دکھا دے اور اگر وہ اپنے آپ کو اس رنگ میں ڈھالے جس رنگ میں شریعت اسے ڈھالنا چاہتی ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا کامل مظہر بن سکتا ہے لیکن سب انسان اس رنگ کو اختیار نہیں کرتے بلکہ وہ بعض صفات کو لے لیتے اور بعض کو چھوڑیتے ہیں۔گویا ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی پور بسیہ مرگیا اور اس کی بیوی نے اپنے قبیلہ کے حسب حال بین ڈالنے شروع کر دیئے۔جب وہ رونے پیٹنے لگی تو اس دوران میں اس نے اپنے خاوند کی بعض باتیں یاد دلائیں تاکہ اس کی بے کسی کو دیکھ کر اور لوگ بھی روئیں چنانچہ کہنے لگی۔فلاں شخص سے اس نے اتنی رقم لینی تھی اب کون لے گا۔اس سے غرض اس کی یہ تھی کہ اب میں لاوارث رہ گئی ہوں میرے کام کون سرانجام دے گا۔مگر جب وہ روتی اور پیٹتی اور کہتی ہائے ہائے اب فلاں سے جو رقم میں نے لینی ہے وہ کون لے گا تو ایک پور بیہ جو پاس ہی بیٹھا ہوا تھا وہ کہتا اری ہم ری ہم۔پھر اس نے کہا فلاں جگہ ہماری اتنی زمین ہے اس کا اب کون انتظام کرے گا تو وہ جھٹ بولا اری ہم ری ہم۔پھر کہنے لگی فلاں جگہ ہمارا کام ہے اس کو کون سنبھالے گا تو وہ فورا بولا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم۔پھر اس نے کہا ہائے میرے خاوند نے فلاں کا اتنا قرضہ دینا تھا اب وہ کون دے گا تو وہ کہنے لگا بھئی برادری میں سے کوئی اور بھی بولے یا میں