خطبات محمود (جلد 3) — Page 384
خطبات محمود ۳۸۴ جلد سوم اس کا ذکر کر رہا ہوں کہ جو غور کرتا ہے کہ مجھے شادی کرنی چاہئے یا نہیں۔ایسے انسان کی شادی سے غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ بنی نوع انسان کو نیکی پر قائم کرنے کے سامان پیدا کرے۔پس جب شادی کی غرض یہی ہے تو شادیوں میں اس بات کو مد نظر بھی رکھنا چاہئے اور اس مقصد کو پورا کرنے کا ارادہ اور عزم کرنا چاہئے جس کی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے شادی کے برے نتائج نکلنے کے باوجود اس سلسلہ کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی۔کیونکہ کسی کو کیا معلوم کہ اس کی نسل سے وہ انسان پیدا ہو جائے جو دنیا کی اصلاح کر سکے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ غوطہ زن موتی کی تلاش میں غوطے لگاتا ہے شادی کی تہہ میں بھی قیمتی موتی موجود ہوتے ہیں اس لئے حکم ہے کہ مارو غوطے شاید وہ موتی جس سے دنیا کی نجات وابستہ ہے تمہارے ہی ہاتھ آجائے۔آج سے چودہ سو سال قبل مکہ میں جب ایک شخص عبد اللہ نامی نے ایک عورت آمنہ نامی سے شادی کی تو کون کہہ سکتا تھا کہ یہ غوطہ زن ایسا موتی نکال کر لائے گا جو دنیا کی کایا پلٹ دے گا۔مگر وہ بھی ایک شادی ہوئی اور اسی رنگ میں ہوئی تھی کہ مارو غوطے اور موتی تلاش کرو مگر اس کے نتیجہ میں وہ گو ہر دستیاب ہوا کہ جو پیدائش انسانی کا مقصود تھا۔ایک مرد ایک یا دو یا تین یا چار عورتوں سے شادی کرتا ہے اور اندھا دھند بے تحاشا نسل پیدا کرتا چلا جاتا ہے اس میں نیچر کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ کوشش کرو اور وہ موتی نکالو جو دنیا کی اصلاح کر سکے اور جس طرح غوطہ لگانے والوں کی کوشش کے نتیجہ میں کچھ سیپ نکل آتے ہیں، کچھ ناقص موتی ہاتھ آتے ہیں اور بعض اوقات کامل موتی مل جاتا ہے اسی طرح غوطہ زنی کے سلسلہ میں کچھ گندی نسلیں پیدا ہو جاتی ہیں اور کچھ کامل۔مگر اس وقت تک میں نے جو کچھ کہا ہے وہ محض اتفاقی امر ہے۔اتفاق سے کوئی بچہ اچھا نکل آیا اور کوئی برا۔لیکن اس کے ساتھ ہی اگر ہم اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں اتفاق سے گزر کر یقین کے مقام پر کھڑا ہونا چاہئے اور رسول کریم الی نے ہمیں طریق بھی بتا دیا ہے کہ جس سے ہم یقین کے مقام پر کھڑے ہو سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان ایسی دعائیں کرتا رہے اور نیت شادی کی یہی رکھے۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ جب مرد اور عورت ملیں تو دعا کریں کہ اللهُمَّ جَنِبْنَا الشَّيْطَنَ وَجَنْبِ الشَّيْطَنَ مَا رَزَقْتَنَا۔ثم يعنى اے خدا ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور ہمارے ہاں پیدا ہونے والی اولاد کو بھی۔مگر اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ محض منہ سے یہ الفاظ کہہ دینے سے اولاد شیطان سے محفوظ نہیں 03