خطبات محمود (جلد 3) — Page 385
خطبات محمود ۳۸۵ جلد نوم سکتی بلکہ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ ایسا انسان اپنے دل میں شیطان سے بغض پیدا کر لیتا ہے اور اس لئے وہ اس بات کا خاص خیال رکھے گا کہ شیطان کو اپنے بچہ کے پاس نہ آنے دے کیونکہ جو شخص یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا میرا بچہ طاعون سے محفوظ رہے وہ اسے کسی طاعون کے مریض کی گود میں ہرگز نہیں بیٹھنے دے گا بلکہ ایسے مریض سے اپنے بچہ کو دور لے جائے گا۔پس جب رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص یہ دعا کرے اس کی اولاد شیطان کے اثر سے محفوظ رہتی ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ایسا انسان کوشش بھی کرے گا کہ اسے شیطان کے قریب نہ پھٹکنے دے اور اگر کبھی وہ دیکھتا ہے کہ اس کا بچہ شیطان کے پاس پہنچ گیا ہے تو وہ اسے گھسیٹ کر لے آتا ہے۔بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو شخص پیدائش سے پہلے اپنی اولاد کو شیطان کے اثر سے محفوظ رہنے کی دعائیں کرتا ہو اس کا بچہ جب شیطان کے پاس پہنچ جائے تو وہ اسے کھینچ کر واپس نہ لائے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ جھوٹا ہے اور اس کا یہ دعا کرنا دل سے نہیں بلکہ محض زبان سے ہے۔پس ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنی اولاد کو شیطان سے بچاتے ہیں۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم لوگ خود اپنے بچوں کو جھوٹے، فریبی، مکار، غافل، بے دین، بد اخلاق اور کام چور بناتے ہیں۔کیا ہم میں ایک فیصدی بھی ایسے لوگ ہیں جو ایسا کرتے ہوں؟ بچے کو تو کچھ علم نہیں ہوتا اس لئے بچے کو شیطان بنانے والا اس کا باپ ہوتا ہے جو اس کی پیدائش سے پہلے تو دعا کرتا تھا کہ شیطان اس کی اولاد کے پاس تک نہ آئے مگر وہ خود اسے شیطان بلکہ اس سے بھی برا بنا دیتا ہے۔شیطان کا تصور کیا ہے جبکہ خدا تعالٰی نے اسے اس کام پر لگا رکھا ہے۔پاخانہ لاکھ براسی مگر ابو جہل سے تو برا نہیں۔ابو جہل جو کر تا تھا بالا رادہ کرتا تھا۔شیطان کا فعل ایک طبعی تقاضا ہے مگر جس بچے میں شیطانی عادات پیدا ہوں گی وہ جو کچھ کرے گا بالا رادہ کرے گا اس لئے اسے تو شیطان کا دادا کرنا چاہئے۔مجھے سخت افسوس ہے کہ لوگ منہ سے تو دعا کرتے ہیں کہ خدایا ہماری اولاد کو شیطان سے بچا مگر عملاً ان کو جھوٹا، غافل، سست، نمازوں کا تارک بناتے اور دینی تعلیم، تقویٰ اور طہارت کے رستہ سے دور رکھتے ہیں۔ان کے جھوٹ کو مخفی کرتے ہیں، ان کی چوری پر پردہ ڈالتے ہیں اس لئے ان کا یہ کہنا کہ انہوں نے دعا مانگی تھی ایسا جھوٹ اور فریب ہے جس سے زیادہ جھوٹ اور فریب اور کوئی نہ ہو گا ان کی دعا کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔اگر ان کے دل میں شیطان سے فی الواقع ایسی نفرت ہوتی کہ وہ بیوی کے پاس