خطبات محمود (جلد 3) — Page 383
خطبات محمود ٣٨٣ اس میں شبہ نہیں کہ انبیاء کے زمانہ کی جماعت آئندہ آنے والی جماعتوں سے اچھی ہوتی ہے مگر یہ بات اس مسئلہ کے مخالف نہیں جو میں نے بیان کیا ہے یہ ایک علم النفس کا عام مسئلہ ہے کہ دنیا کی اصلاح دو طرح ہی ہو سکتی ہے ایک تعلیم و تربیت کے ساتھ اور ایک کنورشن کے ساتھ۔کنورشن کے معنے یہ ہیں کہ انسان کے نفس میں فورا ایسی تبدیلی ہو جائے جو اسے کہیں سے کہیں پہنچا دے اور انسان کی قلب ماہیت ہو جائے گویا ایک زلزلہ انسان کے اندر آجاتا ہے جو اسے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔مگر یہ اتنی شاذ ہوتی ہے کہ زیادہ تر فلسفی اس کے منکر ہیں اس لئے کہ ان کے اپنے تجربہ میں یہ چیز نہیں آتی یہ ہمیشہ نبیوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔انبیاء جب آتے ہیں تو نئی زمین اور نیا آسمان بناتے ہیں ان کی مٹھیوں میں برقی طاقت کی بیٹریاں ہوتی ہیں اور جو ان سے چھوتا ہے اس کا گویا اندرونی حصہ دھل جاتا ہے۔اس کے سوا جو شخص دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا ہو گا اسے آئندہ نسلوں کی اصلاح سے دنیا کی اصلاح کرنی پڑے گی۔قلب ماہیت صرف نبی اور نبی کے قریبی زمانہ سے ہی تعلق رکھتی ہے۔نبی کا زمانہ ایک خاص رو اپنے اندر رکھتا ہے یہ نہیں کہ وہ رو فورا ختم ہو جائے بلکہ نبی کی وفات کے بعد بھی ایک عرصہ تک جاری رہتی ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ خَيْرُ الْفُرُونِ قَرْنِى ثُمَّ الَّذِينَ يَكُونَهُمْ ثُمَّ ين يَكُونَهُمْ۔ل یعنی سب سے بہتر زمانہ میرا ہے، پھر میرے قریب کا زمانہ اور پھر اس سے قریب کا اس کے بعد عام حالت ہو جائے گی کچھ لوگ نیک ہوں گے تو کچھ بد۔میں نبیوں کے زمانہ کو پیش کرتا ہوں کہ وہ روحانی تخلیق کا زمانہ ہوتا ہے۔اَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّير - کہ اس لئے ان کے یا ان کے قرب کے زمانہ کو چھوڑ کر دنیا کی اصلاح آئندہ نسل کے ذریعہ ہی ہو سکتی ہے۔لیکن اگر شادی کے سلسلہ کو بند کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اصلاح دنیا کا جو ایک ہی ذریعہ تھا اسے بند کر دیا گیا چونکہ انبیاء کی آمد کے سلسلہ میں وقفہ ہوتا ہے اور کئی کئی صدیوں تک کوئی نبی نہیں آتا اس لئے دنیا کی اصلاح کا صرف یہی طریق باقی ہے کہ شادی کر کے آئندہ نسل پیدا کی جائے۔جو قوم رہبانیت قبول کرلیتی ہے وہ دنیا کی اصلاح کا راستہ روک دیتی ہے اس لئے جو قوم دنیا کی اصلاح کرنا چاہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ شادی کے سلسلہ کو جاری رکھے جس کام کو پہلی نسل پورا نہیں کر سکتی شاید اسے دوسری نسل کردے۔- میں یہاں اس انسان کا ذکر نہیں کرتا جو حیوانیت کے جذبہ کے ماتحت شادی کرتا ہے بلکہ