خطبات محمود (جلد 3) — Page 315
خطبات محمود ۳۱۵ جلد موم تھک جاتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔یہی حال روحانیت کا ہوتا ہے۔روحانیت کی بعض مرضیں نمایاں اور عیاں ہو جاتی ہیں لیکن بعض دفعہ اتنی مخفی ہوتی ہیں کہ موت کا فیصلہ جب تک صادر نہ ہو جائے ان کا پتہ نہیں لگتا۔پس جس چیز پر انسان کی نجات کا انحصار ہے وہ اللہ تعالی کی مدد اور نصرت اور اس کا فضل ہے جو تاریکی سے نکال کے روشنی کے مینار پر کھڑا کر دیتا ہے۔جب انسان کے ایسے اعمال کا یہ حال ہے جو موٹے اور نمایاں ہیں۔تو پھر وہ اعمال جن کا سمجھنا ظاہر حالات میں ناممکن ہوتا ہے ان کے اندر جو باتیں مخفی ہوتی ہیں ان کا سمجھنا اور بھی زیادہ نا ممکن ہوتا ہے انہی میں سے ایک نکاح کا معاملہ ہے انسانی نفس کی غلطیاں اور اس کے کیریکٹر اور میلان کی حقیقت ایک دن میں معلوم نہیں ہو سکتی۔اور بعض دفعہ تو دس پندرہ سال میں بھی بعض باتیں معلوم نہیں ہو سکتیں۔پھر یک دم ان سے آگاہ ہو جانا کیونکر ممکن ہے عورتوں میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں اور مردوں میں بھی کہ ان کی بعض عادات اور رحجانات کا پتہ کئی کئی سال کے بعد جاکر لگتا ہے ایسی صورت میں اگر کسی کی امداد سے یہ کام سرانجام پاسکتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا اس کام میں اور کوئی ہستی محمد اور معاون نہیں بن سکتی۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے نکاح کے موقع کے لئے ان آیات کا انتخاب فرمایا ہے جن میں تمام زور تقویٰ پر دیا گیا ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ اتقاء کے معنے پناہ لینا اور بچتا ہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ سے دوری ہو بلکہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ذریعہ بڑی چیزوں سے انسان بچے ورنہ مومن تو خدا تعالٰی کے لقاء کا منتظر ہوتا ہے نہ کہ اس سے پرے ہٹنے کا۔قرآن کریم میں مومن کی یہ تعریف لکھی ہے کہ بُر جُو القَاء الله کے یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید رکھتا ہے اگر تقویٰ کے معنے بچنے کے ہیں تو یہ مطلب ہوا کہ اللہ سے دور بھاگو لیکن اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ کو ڈھال بناؤ اور برائیوں سے بچنے کا ذریعہ بناؤ۔اس مقصد کی طرف ایک وہ آیت بھی متوجہ کرتی ہے جو اس موقع پر پڑھی جاتی ہے۔اور جو یہ ہے : ياأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلَتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ الله خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ثم فرمایا اول تو انسانی اعمال ہی بار یک در باریک ہیں پھر ان کے اندر جو نتائج ہیں ان کو کوئی