خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 316

خطبات محمود ۳۱۶ جلد موم انسان معلوم نہیں کر سکتا۔انسان تو خود اپنے ارادہ کی کنہ کو بھی معلوم نہیں کر سکتا پھر وہ اعمال جن کے نتائج آئندہ نکلتے ہیں ان کے متعلق کیا معلوم کر سکتا ہے بعض دفعہ ایک چھوٹے بچے کا عمل دس، ہیں، چالیس، پچاس سال کے بعد نتیجہ پیدا کرتا ہے۔بچپن میں کھیلتے ہوئے ایک بچہ کو چوٹ لگتی ہے جس کی وہ کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتا ایک دو دن میں اچھا بھلا ہو جاتا ہے لیکن جب وہ چالیس پچاس سال کا ہوتا ہے تو اس کی چوٹ کا اثر ظاہر ہوتا ہے اس وقت وہ دس بارہ سال تک چارپائی پر ایڑیاں رگڑ تا رہتا ہے۔غرض انسانی اعمال کے نتائج اتنی دیر کے بعد نکلتے ہیں کہ وہ افعال کرتے وقت ان کا خیال بھی نہیں کر سکتا اس لئے جب خدا تعالیٰ نے فرمایا وَ لتَنظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ۔کل کے متعلق دیکھو کیا کرتے ہو اور اس طرح ایسی ذمہ داری انسان پر ڈالی جو معمولی نہیں تو اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کا طریق بھی بتا دیا۔فرمایا وَ اتَّقُوا الله اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ تم کل کے لئے انتظام کرد اور خوب سوچ لو لیکن چونکہ۔تمہارے اختیار میں نہیں اس لئے جو کچھ کر سکتے ہو کر و باقی جو بات تمہاری دسترس سے باہر ہے وہ بھی ہو جائے گی۔تم کو پتہ نہیں کہ جو کام کرتے ہو اس کے کیا نتائج نکلیں گے یہ بات اللہ تعالٰی ہی کو معلوم ہے کیونکہ وہ خبیر ہے تم اس کو ڈھال بناؤ وہ تمہیں بڑے نتائج سے بچالے گا۔انسان ہر کام میں خدا تعالٰی کی مدد کا محتاج ہے لیکن بعض کاموں میں تو اتنا نمایاں محتاج ہے کہ معمولی عقل و سمجھ کا انسان بھی اس احتیاج کو سمجھ سکتا ہے انہیں میں سے ایک نکاح کا معاملہ ہے۔اس کے متعلق نہ مرد کو پتہ ہوتا ہے بیوی کے حالات کا اور نہ بیوی کو پتہ ہوتا ہے مرد کے حالات کا اس لئے شادی کا دن دراصل بڑی گھبراہٹ اور رونے کا دن ہوتا ہے اور میاں بیوی کی قلبی حالت کی مثال اس بزرگ کی قلبی حالت کی سی ہونی چاہئے جسے بادشاہ نے چیف حج مقرر کر دیا تھا۔یہ خبر سن کر ان کے دوست ان کے پاس گئے تاکہ انہیں اتنا بڑا عہدہ ملنے پر مبارکباد دیں لیکن انہوں نے دیکھا کہ وہ مغموم بیٹھے رو رہے ہیں۔انہوں نے کہا آپ کے رونے کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔یہ آپ کے لئے خوشی کا دن ہے نہ کہ رونے کا کیونکہ اتنی بڑی عزت آپ کو حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے فرمایا یہی عزت مجھے حاصل ہوئی ہے کہ میرے سپرد ایک ایسا کام کر دیا گیا ہے جس کے متعلق مدعی اور مدعا علیہ جو میرے پاس آئیں گے دونوں کو پتہ ہو گا کہ حقیقت کیا ہے لیکن ان کا فیصلہ کرنا میرا فرض ہو گا جسے کچھ پتہ نہ ہو گا یہ تو ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ دو بیناؤں کو ایک نابینا راہ دکھانے کے لئے مقرر کر دیا جائے۔یہی