خطبات محمود (جلد 3) — Page 314
خطبات محمود سم ۳۱ جلد سوم غرض جب تک انسانی اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی اطاعت کے تابع نہ ہوں اور انسان کو خدا کی طرف سے نور نہ حاصل ہو کبھی بھی یقین اور اعتماد کے قابل نہیں ہوتے۔بعض دفعہ انسان اپنی دیانت اور امانت کو مد نظر رکھتے ہوئے سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی فعل بڑا نہیں لیکن اس کے نفس کے تاریک گوشوں میں گندگی اور ناپاکی ایسی پڑی ہوتی ہے جو جوش میں آکر اس کی ساری نیکیاں برباد کر کے اسے کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔اسی طرح ایک انسان جو شیطان صورت نظر آتا ہے اور اعمال کے لحاظ سے ناپاک ترین ہستی دکھائی دیتا ہے اس کے دل کے کسی گوشہ میں چھپا چھپایا نیکی کا بیج پڑا ہوتا ہے۔بعض ایسے حالات جو انسان کے اختیار اور طاقت میں نہیں ہوتے ان کے ذریعہ وہ بیج نشو و نما پاتا ہے اس وقت بدیوں اور برائیوں کی تمام گھانس جو دل میں لگی ہوتی ہے بڑھنے سے رہ جاتی ہے پھر مرجھا جاتی ہے پھر خشک ہو کر تباہ ہو جاتی ہے اور نیکی کا بیج بڑھتے بڑھتے اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ہر نبی کی امت اور اس کے صحابہ میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کا ایک شخص اس قدر ناپاک قرار دیا جاتا ہے کہ اسے کہا جاتا ہے جہاں سے گزرو یہ کہتے جاؤ کہ مجھے کوئی نہ چھوٹے سکے لیکن بعض باہر سے آنے والے شخص قرب حاصل کر لیتے ہیں اور ترقی پالیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں وحی الہی کا کاتب اور مقرب صحابی ٹھوکر کھا جاتا ہے اور ایسی بات پر ٹھو کر کھا جاتا ہے جس پر ایک بچہ کو بھی ٹھو کر نہیں لگ سکتی وہ کفار میں جا ملتا ہے مگر ابو سفیان اور ہندہ جن کی ساری عمر رسول کریم کی شدید مخالفت میں گزری ایسے ایسے قبیح افعال کے مرتکب ہوئے کہ دشمن سے دشمن بھی اسے پسند نہیں کر سکتا اور انسانیت کے لئے ان کا ذکر بھی بارگراں ہے لیکن کوئی نیکی جو ان کے گوشہ دل میں چھپی ہوئی تھی انہیں مسلمان بنا دیتی ہے اور نہ صرف مخلص مسلمان بلکہ ایسے مسلمان جنہیں دین کی خدمت کے مواقع حاصل ہوتے ہیں ایسے مواقع جو انہیں قرب کے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیتے ہیں۔پس جو چیز انسان کو حقیقی نجات کی طرف لے جاتی ہے اور اس کے علم سے باہر ہے جیسے انسان کی جسمانی صحت باریک ذرات کی درستی پر منحصر ہے ایسے باریک ذرات جنہیں کوئی خوردبین بھی نہیں دیکھ سکتی۔بعض دفعہ جب ان کے اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں تو لوگ علاج کر لیتے ہیں لیکن بعض دفعہ اثرات ایسے مخفی ہوتے ہیں کہ طبیب بھی سر ٹکراتے ٹکراتے