خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 17

خطبات محمود جلد سوم ہندوستان میں جو نکاح ہوتے ہیں ان میں ایک بہت بری بات یہ ہوتی ہے کہ جھوٹا مہر مقرر کرتے ہیں۔پانچ دس روپیہ کی تو آمدنی نہیں ہوتی مگر مرپندرہ لاکھ اشرفی، دس ہاتھی، پانچ گاؤں وغیرہ وغیرہ باندھتے ہیں پھر لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی والوں کی نکاح سے پہلے بڑی منت خوشامد کی جاتی ہے اور اپنے آپ کو ان کا غلام قرار دیتے ہیں۔چنانچہ لڑکی والوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے لڑکے کو اپنی غلامی میں لے لو یا یہ کہ لڑکا کہتا ہے مجھے اپنی غلامی میں لے لو۔لیکن جب شادی ہو جاتی ہے تو اسی کو گالی کے طور پر سرا کہتے ہیں۔گویا جس وقت شادی نہیں ہوئی تھی اس وقت تو غلام تھا مگر جب شادی ہو گئی تو سرا گالی بن گئی۔پہلے آتا تھا مگر جب لڑکی بیاہ دی تو بد ترین شخص ہو گیا۔ایسا کیوں ہوتا ہے اس لئے کہ جھوٹ بولتے ہیں۔پھر لڑکی والے کہتے ہیں کہ ہماری لڑکی چاند کی طرح ہے۔چاند میں داغ ہو تو ہو مگر ہماری لڑکی میں نہیں ہے علم و عقل میں یکتائے روزگار ہے۔غرضیکہ بہت کچھ جھوٹ بولتے ہیں لیکن جب شادی ہو جاتی ہے تو لڑکی میں یہ باتیں نہیں ہوتیں۔خاوند دیکھتا ہے کہ نہ چاند ہے نہ سورج تو اس کا دل خراب ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو نقشہ اس نے اپنے دل میں جمایا ہوتا ہے وہ نہیں ہوتا۔یہ ایک درست بات ہے کہ دل میں کسی چیز کا جو نقشہ قائم کر لیا جائے اگر وہ پورا نہ نکلے تو خواہ وہ چیز اچھی ہو تو بھی بری معلوم ہوتی ہے۔بعض لوگ قادیان کے رہنے والوں کی نسبت عجیب عجیب خیالات اپنے دل میں رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں کے سب لوگ فرشتوں کی طرح ہوں گے دنیا کا کام نہیں کرتے ہوں گے ہر وقت عبادت میں لگے رہتے ہوں گے لیکن ایسے لوگ جب خود یہاں آتے ہیں اور اپنے خیال کے مطابق لوگوں کو نہیں پاتے تو بہت کبیدہ خاطر ہو کر جاتے ہیں۔ایک دفعہ ایک شخص یہاں آیا حضرت مسیح موعود مغرب کی نماز پڑھ کر مسجد میں ہی بیٹھا کرتے تھے اس لئے لوگ آپ کے قریب بیٹھنے کے شوق میں پروانہ وار آگے بڑھتے اور ہجوم کر لیتے۔اس طرح کرنے سے اس شخص کو کسی کی کہنی لگ گئی تو بڑا ناراض ہوا اور کہنے لگا کیا اسی قسم کے احمد کی ہوتے ہیں ناراض ہو کر چلا گیا۔چونکہ اس نے اپنے ذہن میں کوئی عجیب قسم کا نقشہ جمایا ہوا ہو گا اس لئے اسے اس معمولی سی بات سے ابتلاء آگیا۔آنحضرت ﷺ کی نسبت قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تو کھاتا پیتا اور بازاروں میں ہماری طرح چلتا پھرتا ہے کیا یہ رسول ہو سکتا ہے۔انہوں نے رسول کی نسبت یہ خیال کیا ہوا تھا کہ وہ انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا نہیں ہو گا اس لئے انہیں آنحضرت ا کے