خطبات محمود (جلد 3) — Page 16
خطبات محمود 14 جلد سوم د عورت کے تعلقات اچھے ہوتے ہیں۔اور اس اچھا ہونے کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ (میں چونکہ اسلامی نکاح کے متعلق گفتگو کر رہا ہوں اس لئے اسلام نے جو اس کی وجہ بتائی ہے وہی بیان کروں گا کہ اسلام نے مرد کے فوائد کو عورت کے فوائد سے اور عورت کے فوائد کو مرد کے فوائد سے ایسا متحد کر دیا ہے کہ ان میں سوائے دوستی اور محبت کے اور کچھ نہیں ہو سکتا ؟ کیونکہ دوستی اور محبت اور پیار کا اصل فوائد کا متحد ہونا ہے جس قدر بھی تعلقات اور دوستیاں ہیں ان سب کی اصلیت یہی ہے۔رومی " لکھتے ہیں کہ میں نے ایک جگہ ایک کوا اور ایک کبوتر بیٹھے دیکھے۔میں نے خیال کیا کہ یہ کیوں اکٹھے بیٹھے ہیں۔ان میں اتحاد کی کیا وجہ ہے۔اس بات کو معلوم کرنے کے لئے میں وہاں بیٹھ گیا۔کچھ دیر کے بعد جو دونوں چلے تو معلوم ہوا کہ دونوں لنگڑے ہیں کہ گویا ان کے اشتراک کی وجہ لنگڑا ہونا تھی۔تو جتنا جتنا اشتراک کسی میں ہوتا ہے اتنا ہی اُن کا آپس میں تعلق مضبوط ہوتا ہے کیونکہ فوائد کے اشتراک پر اتحاد کی بنیاد ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے مرد اور عورت کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے یہ تجویز فرمائی ہے کہ ان کے فوائد کو متحد کر دیا ہے اس لئے یہ ایسا جوڑ اور ایسی شرائط کے ماتحت ہے کہ اس کو کوئی جدا نہیں کر سکتا خدا تعالیٰ نے مرد کو عورت کا ذمہ دار بنایا ہے اور عورت کو مرد کا ذمہ دار اور دونوں کو ایک دوسرے کی عزت، مرتبہ ، مال، دولت، آرام و آسائش میں شریک بنایا ہے اس لئے جس قدر مرد کا رتبہ اور عزت وغیرہ بڑھتی جائے گی اسی قدر عورت کی بڑھے گی اور جس قدر عورت کی بڑھے گی اس قدر مرد کی بڑھے گی۔ایک کی ترقی دوسرے کی ترقی ہے اور ایک کا تنزل دوسرے کا تنزل۔ایک کا نقصان دوسرے کا نقصان ہے اور دوسرے کا نقصان ایک کا۔مثلاً مرد کے بیمار ہونے سے جو نقصان ہو گا وہ نہ صرف اسی کا ہو گا بلکہ اس کی عورت کا بھی ہو گا۔اسی طرح اگر عورت کسی تکلیف میں مبتلاء ہوگی تو اس تکلیف کا اثر مرد تک بھی پہنچے گا۔کیونکہ عورت مرد کا ایسا تعلق اور اتحاد ہے کہ دونوں کے فوائد اور نقصان ایک ہو گئے ہیں اور یہ ایک زبر دست اتحاد ہے جس کو کوئی توڑ نہیں سکتا سوائے بیرونی بواعث اور خارجی اثرات کے۔اصل میں خدا تعالیٰ نے مرد و عورت کے فوائد کا ایسا اشتراک رکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بچی محبت کرنے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں ہاں کچھ بیرونی روکیں رہ جاتی ہیں لیکن ان کے دور کرنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے تدابیر بتادی ہیں۔یہ آیات جو نکاح کے موقع پر پڑھنی آنحضرت ا نے مقرر فرمائی ہیں ان میں ان تدابیر کا ذکر ہے۔