خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 18

خطبات محمود جلد موم پہچاننے کی توفیق نہ ملی۔تو جو نقشہ کھینچا جائے وہ اگر پورا نہ ہو تو اصل چیز کی جو قدر ہوتی ہے وہ بھی نہیں رہتی۔وہ لوگ جنہوں نے آنحضرت اللہ کا غلط نقشہ اپنے دلوں میں نہیں جمایا ہوا تھا انہوں نے جب آپ کو دیکھا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور بے اختیار سبحان اللہ پکار اٹھے مگر نقشہ بنانے والے محروم ہی رہے۔تو کسی چیز کا غلط نقشہ سمجھ لینا بڑی خرابی پیدا کرتا ہے مرد و عورت کے تعلقات میں جو بیرونی اسباب اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں ان میں سے ایک جھوٹ بھی ہے۔اس کے متعلق خدا تعالٰی فرماتا ہے قُولُوا قَولاً سَدِيدًا۔سہ پکی اور سچی بات کہنی چاہئے۔کبھی کوئی بات ایسی نہ کہو جو فساد کا موجب ہو۔اگر اس بات کو مد نظر رکھا جائے تو شادی بیاہ کے متعلق نصف لڑائیاں اس سے رک جائیں۔اس کے علاوہ بہت سے فساد اس رنگ میں ہوتے ہیں کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسرے چھوٹے درجہ کے ہیں اور ہم بڑے درجہ کے۔پہلے تو تعلق پیدا کر لیتے ہیں لیکن بعد میں انہیں اپنے خاندان یا امارت کا خیال آتا ہے اور اس طرح لڑائی جھگڑے شروع ہوتے ہیں۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةِ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيراً وَنِسَاء - شے اے لوگو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔تم سب کو ہم نے ایک جان سے پیدا کیا ہے پس اگر کسی کو کسی وجہ سے بڑائی حاصل ہو گئی ہے تو وہ عارضی ہے اصل میں تم سب ایک ہی ہو۔اس بات کو سمجھنے کے بعد ہر ایک کو معلوم ہو سکتا ہے کہ اگر میاں کسی خاندانی یا دنیوی لحاظ سے بیوی سے بڑا ہے تو عارضی بڑائی رکھتا ہے۔اسی طرح اگر بیوی کسی لحاظ سے افضل ہے تو وہ بھی عارضی ہے۔اصل میں دونوں ایک ہی طرح کے ہیں۔دوسرے میاں جس قدر بڑا اور اعلیٰ درجہ رکھتا ہے بیوی کا بھی اتنا ہی مرتبہ بڑھتا ہے۔اور بیوی جو صفت رکھتی ہے خاوند کو اس سے فائدہ ہے اس لئے خاوند کی بڑائی بیوی کی بڑائی ہے اور بیوی کی بڑائی خاوند کی۔یہ بات سمجھنے سے بہت سی خرابیوں کا انسداد ہو جاتا ہے۔پھر ایک بات یہ ہوتی ہے کہ جلد بازی سے رشتہ کر لیا جاتا ہے جس میں کئی قسم کے نقص نکل آتے ہیں اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ولتنظرُ نَفْسَ مَا قَدَّمَتْ لِغَدِ۔له که سوچ - سمجھ کر کیا کرو۔اس کے بعد فرمایا کہ اگر باوجود تمہارے ان سب باتوں کی احتیاط کرنے کے کوئی نقص اور عجیب رہ جائے تو اللہ کا تقوی اختیار کرو وہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے اگر ان میں کوئی