خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 136

خطبات محمود جلد سوم۔شاذ و نادر مل جائے تو مل جائے ورنہ نہیں۔اور اونٹ کی اتنی قیمت تھی کہ جب کوئی مہمان آتا تو ذبح کر لیا جاتا یا لاٹری ڈالی جاتی اور آپس میں بیٹھ کر کھا پی لیتے۔تجارت معمولی تھی سال میں ایک دو دفعہ قافلے چلتے تھے اور اونٹ کی قیمت معمولی تھی اور گزارے بھی لوگوں کے معمولی تھے۔آنحضرت اللہ کو اعلیٰ خاندان کے فرد تھے مگر دیکھنا یہ ہے کہ خود اس خاندان میں آپ کی کیا حیثیت تھی۔مراتب محض خاندان سے ہی نہیں ہوتے بلکہ خاندان میں کوئی خاص بڑائی رکھنے سے ہو سکتے ہیں۔مثلاً سادات کی مسلمانوں میں عزت ہے اس لئے کہ وہ رسول کریم کی نسل سے ہیں مگر محض سادات سے ہونا کوئی عزت نہیں۔جیسے برہمن ہندوؤں میں ہیں ان کا کام صرف باورچی گری رہ گیا ہے ہاں اگر کھشتری عالم ہو اور ایک پنڈت عالم، تو پنڈت عالم کی عزت زیادہ ہوگی۔اسی طرح اگر ایک سید عالم ہو تو اس کی عزت زیادہ ہوگی تو کو رسول کریم اے بڑے خاندان سے تھے مگر اس خاندان میں آپ بڑے نہ تھے بلکہ نوجوانوں میں آ پ کا شمار تھا۔اگر اس خاندان میں عزت تھی تو ابو طالب کی تھی کہ وہ اس خاندان میں بڑے تھے۔پھر اس خاندان کو کوئی سیاسی عظمت حاصل نہ تھی آپ اپنے خاندان میں عمر میں ئے تھے۔ایک زمانہ میں آپ کے چچا سے پوچھا گیا تھا کہ آپ بڑے ہیں یا محمد رسول اللہ ؟ تو انہوں نے کہا کہ بڑے تو محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں مگر پیدا پہلے میں ہوا تھا۔تو عمر میں آپ چھوٹے تھے۔مگر خدا نے عزت میں آپ کو سب سے بڑا کر دیا۔آپ کے خاندان کو دینی حیثیت سے رتبہ حاصل تھا۔مگر وہ بھی یہ کہ کعبہ کے بتوں پر جو چڑھاوا چڑھتا تھا وہ آپ کے خاندان کو مل جاتا تھا۔مگر لڑائی اور جنگ کے زمانہ میں آپ کے خاندان کا کوئی عہدہ نہ تھا۔بلکہ یہ ابو سفیان اور ابو جہل کے خاندانوں کو حاصل تھا۔جب لوگ آتے تھے تو عرب کے معزز طبقہ کے خطاب کے قاعدے کے مطابق آپ کو اے چچا! اے باپ کہہ کے نہ پکارتے تھے بلکہ آپ کو انے بچہ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ آپ حدیث السن تھے۔پھر پڑھنے لکھنے کی وجہ سے عزت ہوتی ہے۔اس ملک میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہ تھا۔اگر تھوڑا بہت بھی آپ " جانتے تو آپ کو بڑا سمجھا جاتا مگر آپ ﷺ کو پڑھنا لکھنا بھی نہ آتا تھا۔پس آپ کو نہ سیاسی عزت حاصل تھی نہ خاندان میں بڑا مرتبہ حاصل تھا نہ مال آپ کے پاس تھا ایسی حالت میں آپ نے دعوی کیا اور کتنا بڑا دعویٰ کیا۔قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص ایک دو دن کے سفر پر جاتا ہے تو اس کے مطابق تیاری کرتا