خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 135

خطبات محمود ۱۳۵ २ ام جلد سوم خدا تعالیٰ کی قدرت کا عظیم الشان کرشمہ فرموده ۲۵ جنوری ۱۹۲۲ء) ۲۵۔جنوری ۱۹۲۲ء سید صادق علی ولد سید امداد علی صاحب ساکن امبیٹھا ضلع سہارنپور کا نکاح سلمیٰ بنت سید محبوب عالم ساکن موضع لر سا ضلع گیا ملازم کینال آفس آرہ سے ایک روپیہ مہر پر اور سید احمد نور صاحب کا نکاح سعیدن سے دو سو روپیہ مہر پر حضرت خلیفہ اسح الثانی نے پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔انسان روزانہ اللہ تعالی کی قدرتوں کا مشاہدہ کرتا ہے لیکن پھر بھی گھبرا جاتا ہے۔ایک زندہ خدا کا کام کرنے والا طاقت والا ہاتھ دیکھتا ہے مگر دل میں یہ بات نہیں جمتی کہ اس کی مشکلات بھی دور ہو سکتی ہیں اور وہ گھبرا کر کہتا ہے کہ کیا ہو گا اور اس طرح وہ اس نصرت الہی کو کاٹ دیتا ہے جو خدا سے اس کو ملتی ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت کا کیا کرشمہ ہے اس کے لئے ہم انبیاء کی ہی مثال لیتے ہیں۔وہ کس حال میں آئے اور ان کو کیا طاقت اور قدرت تھی مگر انجام کار کیا ہوا۔آنحضرت ﷺ جب پیدا ہوئے تو والد فوت ہو چکے تھے اور ورثہ میں جو کچھ آپ کے لئے چھوڑا اس میں اختلاف ہے۔کوئی ایک اونٹ لکھتا ہے، کوئی ایک بکری۔اگر بکری ہے تو زیادہ سے زیادہ آٹھ دن کی خوراک ہے اور اگر اونٹ ہے تو ایسے علاقہ میں جو متمدن نہ ہو کوئی زیادہ فائدہ کی چیز نہیں۔آج کل کے زمانہ میں اونٹ کا مالک گورنمنٹ کی ملازمت کرنا چاہے تو اس کو مل سکتی ہے مگر جہاں نہ تجارت ہو نہ زراعت، نه صنعت و حرفت اگر کوئی کام