خطبات محمود (جلد 3) — Page 137
خطبات محمود ۱۳۷ جلد سوم ہے اگر زیادہ لمبا سفر ہوتا ہے تو اس کے مطابق کھانے اور سواری وغیرہ کی تیاری کرتا ہے پس آپ نے جو دعوی کیا وہ چونکہ عظیم الشان تھا اس لئے اس کے متعلق اتنی ہی زیادہ احتیاج کی ضرورت تھی مگر عزت حاصل کرنے کے جو یہ چار ذرائع ہیں۔۱۔مال ۲۔-۴ خاندانی اعزاز یعنی معزز خاندان کا ہو اور اس خاندان میں بڑا بھی ہو یہ آپ کو حاصل نہ تھے۔علم حضرت مسیح موعود بھی معزز خاندان کے تھے مگر خاندان میں چھوٹے تھے۔) ایسی حالت میں آنحضرت ﷺ نے دعوی کیا کہ میں ساری دنیا کو فتح کرنے آیا ہوں۔حالت یہ ہے کہ بڑائی کی کوئی بھی ظاہری چیز حاصل نہیں اور دعوئی اتنا بڑا کہ جس میں دنیا کی سب احتیاجیں آجائیں۔گویا میں کچھ نہیں اور دعوئی یہ کہ سب کچھ حاصل کرنا ہے۔اس وقت کیا خیال ہو سکتا تھا کہ کامیابی ہوگی ہرگز نہیں۔اس لئے بعض نے مجنوں کہا، بعض نے مکار، بعض لوگوں نے کہا کہ اس کے کسی عمل کی وجہ سے اس پر کوئی وبال نازل ہوا ہے یہ تین فیصلے تھے جو ظاہر داری کے مطابق لوگ کر سکتے تھے اور انہوں نے کئے مگر ایک اور نقطہ نظر بھی تھا اور وہ روحانی تھا۔اول یہ کہ اس کے چال چلن کو دیکھا جائے۔کیا اس کا پہلا چال چلن ایسا تھا کہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی وبال نازل ہو تا۔پھر اب تم پاگل کہتے ہو مگر کیا اس کے کام بے نتیجہ اور بے قرینہ ہیں۔تیسرے مدعی کی پہلی زندگی کو دیکھنا چاہئے کیا اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ جھوٹ بول سکتا ہے پھر موجودہ زندگی کے افعال کو دیکھنا چاہئے۔کیا پاگلوں کی سی بات اس میں ہے۔جب یہ تینوں نتیجے غلط ہیں تو اس کے متعلق نقطہ نگاہ بدلنا پڑے گا۔جب ہم اس کے پہلے اعمال کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اعمال بہترین اعمال تھے اس لئے ان سے برا نتیجہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے گندم از گندم بردید جو ز جو۔پس معلوم ہوا کہ جو کچھ یہ کہتا ہے اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ اور طاقتور ہستی ہے جو اس سے کہلوا رہی ہے چنانچہ آپ نے اس بے سرو سامانی کی حالت میں جو کچھ فرمایا وہ صحیح ثابت ہوا اور دنیا کو آپ کی بات مانی پڑی۔کتنی نا ممکن بات نظر آتی تھی جو ممکن ہو گئی۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں مجھے آنحضرت ا سے اتنی نفرت تھی کہ میں آپ کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا مگر پھر وہ زمانہ آیا کہ مجھے آنحضرت سے خوبصورت کوئی نہ معلوم ہوتا تھا۔اور پھر رُعب محبت سے میں آپ کی طرف نہ دیکھ سکتا تھا۔سے چنانچہ اب یہ حالت ہے کہ اگر کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھے تو میں نہیں بتا