خطبات محمود (جلد 3) — Page 109
خطبات محمود ١٠٩ جلد سوم جواب دیں گے ہماری ناک کٹ جائے گی۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مولوی صاحب کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کے متعلق نہیں پڑھا کہ آنحضرت ا حضرت عائشہ کے ساتھ صحابہ کے سامنے دوڑے تھے۔آے اور فرمایا کہ یہ شریعت کا مسئلہ ہے اگر آپ کی ناک کٹتی ہے تو چلے جائیں۔مولوی صاحب خاموش ہو کر واپس چلے گئے۔حضرت مولوی صاحب نے پوچھا کہ بتاؤ کیا جواب ملا۔مولوی صاحب خاموش تھے۔پس پورے حقوق دیئے جائیں اور جو نا جائز ہیں ان کو روک دیا جائے اگر اس قسم کی ایک دو یا سینکڑوں مثالیں پیدا ہو جائیں تو پھر فوراً دنیا کی توجہ ادھر ہو جائے گی۔ورنہ اب یورپ کی عورتیں آتی ہیں اور مشرقی عورتوں کو اندر بند دیکھتی ہیں تو وہ اس کو عیسائی مذہب کی فتح کے طور پر پیش کرتی ہیں حالانکہ یہ عیسائیت کی تعلیم نہیں ہوتی بلکہ سول لائنریشن (CIVILIZATION) کا نتیجہ ہوتا ہے مگر چونکہ مغرب سے وہ آتی ہیں اس لئے عیسائیت ہی کی تعلیم خیال کی جاتی ہے۔پس عورتوں کو اسلام نے حقوق میں مساوات دی ہے مگر انفرادی طور پر اور اجتماعی حیثیت کے قیام کے لئے بعض حقوق لئے ہیں۔جیسا کہ ہر شخص کا قدرتی حق ہے کہ جس جگہ چاہے جائے مگر حکومتیں نظام کے قیام کے لئے بعض روکیں قائم کر دیتی ہیں۔اسی طرح عورتوں سے ان کے بعض حقوق قیام نظام کے لئے لئے گئے ہیں یعنی ان کے حقوق کو تسلیم کر کے ان سے لیا گیا ہے۔میں نے کشمیر میں عورتوں کی وہ بری حالت دیکھی ہے جس کی حد نہیں۔پردے کے بارے میں تو یہاں تک آزادی کہ ناف تک چھاتی سنگی جو یورپ کی عورتیں بھی نہیں رکھتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پاجامہ وہ پہنتی نہیں اور کرتا لمبا پہنتی ہیں جس کو اٹھا نہیں سکتیں۔گریبان لمبا رکھتی ہیں۔اس سے بچے کو دودھ پلاتی ہیں گویا ایک آفت سے دوسری آفت آتی ہے۔اس کے مقابلہ میں غلامی کا یہ حال ہے کہ عورت کو کھانے پینے کی چیزوں تک یہ اختیار نہیں۔اس ملک میں تو یہ بات نہیں دیکھی مگر وہاں یہ عجیب بات دیکھی ہے۔ایک احمدی دور کے علاقہ سے آیا اور جلد واپس جانے لگا۔جب پوچھا کہ کیوں جاتے ہو تو کہنے لگا کہ میں چاول تول کر گھر دے آیا تھا اگر میں نہ جاؤں تو گھر والے فاقہ رہیں گے۔اور یہ عام رواج ہے۔اگر وہاں عورتوں کو ان کی اسی حالت کی طرف توجہ دلانے والا کوئی ہو تو وہ بہت جلد اسلام کو چھوڑ سکتی ہیں لیکن اگر