خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 108

خطبات محمود ١٠٨ جلد سوم مثلاً اسلام نے پردہ رکھا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ غیر مردوں سے مصافحہ نہ کیا جائے۔اب اگر عورتیں آگے نکل گئیں اور جیسا کہ وہ اس ذلت سے نکل رہی ہیں ان حدود سے بھی جو صحیح ہیں باہر ہو گئیں تو دنیا کی نصف آبادی کو حد اعتدال پر لانا مشکل ہو گا۔میرے نزدیک اگر ہم یہ باتیں منوالیں تو اسلام کی صداقت اسی طرح ثابت ہو سکتی ہے جس طرح ایک اور ایک دو۔پس یہ تمدنی روک ہے جو اسلام کے راستے میں حائل ہو رہی ہے۔جہاں بعض باتوں میں دنیا اسلام کے قریب آرہی ہے وہاں بعض میں دور سے دور ہوتی جارہی ہے کیونکہ جب دنیا کے ایک حصہ نے دیکھا کہ اس کے حقوق سختی سے پامال کئے گئے ہیں تو وہ ضد میں آگیا اور ان حدود سے نکل گیا جو جائز طور پر اس کے لئے مقرر ہیں اور اگر یہ خیال کیا گیا کہ دنیا تجربہ کے بعد درستی کی طرف آجائے گی تو میں نے بتایا ہے کہ اول تو ہزا ر ہا سال چاہئیں اور پھر یہ بھی ہو گا کہ اتنے عرصہ میں اور غلطیاں پیدا ہو جائیں گی۔تو یہ طاقتیں ہیں جن کا ہم نے مقابلہ کرنا ہے مگر ابھی لوگ اس کو نہیں سمجھتے۔خود ہماری جماعت میں جو عورتیں پڑھی لکھی ہیں اور بیرونی کتابوں اور اخباروں کو پڑھتی ہیں وہ سوال کرتی ہیں کہ ہمارے حقوق کیا ہونے چاہئیں اور بعض اوقات ان کی باتیں اسلام کی تعلیم کی مخالف ہو جاتی ہیں۔میری عادت ہے کہ میں اپنی بیوی کو چھیڑ کے طور پر جوش پیدا کرنے کے لئے اور اسلامی تعلیم پر پختہ کرنے کے لئے کہا کرتا ہوں کہ عورتوں میں یہ نقص ہے یہ نقص ہے تاکہ وہ اس کے مقابلہ میں دلائل پیش کریں۔چنانچہ وہ بیان کرتی ہیں اور میں ایک ایک کر کے ان کی دلیلوں کو توڑتا ہوں تاکہ وہ تعلیم اسلام پر پختہ ہو جائیں۔پس ہماری جماعت کے لوگوں میں بھی پرانے زمانے کا یہ اثر چلا آتا ہے کہ وہ عورتوں کے جائز حقوق میں تنگی کرتے ہیں جس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو سکتا۔حضرت صاحب نے اس بات کو ابتداء میں ہی سمجھ لیا تھا۔ایک سٹیشن کے پلیٹ فارم پر اپنی بیوی (میری والدہ) کو ساتھ لئے ہوئے ٹہل رہے تھے مولوی عبد الکریم صاحب خواہ مولوی تھے مگر پچھلے زمانہ کے اثر کے ماتحت تھے۔حضرت مولوی صاحب (خلیفہ المسیح الاول) سے کہنے لگے کہ دیکھو حضرت صاحب یوں پھرتے ہیں مخالف اعتراض کریں گے ہماری ناک کٹ جائے گی ہم کیا جواب دیں گے آپ جا کر رو کیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں نہیں جاتا آپ خود چلے جائیں۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب گئے اور حضرت صاحب کو آواز دے کہ کہا کہ حضرت لوگ ہم پر اعتراض کریں گے اور ہم اس کا کیا