خطبات محمود (جلد 3) — Page 644
خطبات محمود جلد سوم ہزاروں خرابیاں ان میں پیدا ہو چکی ہیں پھر بھی ان کی یہ شان اب تک باقی ہے کہ خواہ کسی ملک کا باشندہ ان کے ہاں چلا جائے وہ اس کے ساتھ اپنی لڑکی بیاہ دینے میں قطعی طور پر کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔چنانچہ اس کا نتیجہ ہے کہ آج حبشیوں کے ہاں عرب لڑکیاں موجود ہیں، چینیوں کے ہاں عرب لڑکیاں موجود ہیں، یورپین مسلمانوں کے ہاں عرب لڑکیاں موجود ہیں غرض اسلامی اخوت کی یہ بنیادی چیز ایسی ہے جسے اہل عرب نے اب تک قائم رکھا ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ رسول کریم اللہ کے معجزوں میں سے ایک بہت بڑا معجزہ ہے مگر افسوس ہے کہ باقی مسلمانوں نے اس کی اتباع ترک کر دی ہے اور وہ غیر ملکی تو الگ رہے غیر صوبہ بلکہ غیر ضلع والوں کے ساتھ اپنی لڑکیوں کے بیاہنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔بلکہ آج کل کے مسلمانوں کی تو یہ حالت ہے کہ گزشتہ دنوں مسٹر کنزے اور مسٹر رشید احمد امریکن کی ہم نے یہاں شادی کی یہ دونوں غیر ملکی ہیں اور تنگ گزارہ کرنے والے ہیں) ان کے ساتھ اپنی لڑکیاں بیاہنے والوں نے یقیناً ایک رنگ میں قربانی سے کام لیا ہے گو یہ قومی قربانی نہیں صرف فردی قربانی ہے مگر ان شادیوں پر بھی غیر احمدیوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ لوجی اب غیر ملکیوں کو اپنی لڑکیاں دی جارہی ہیں اب یہ باہر جائیں گی اور جاسوسی کریں گی۔گویا ہجائے اس کے کہ وہ اسلامی روح کا مظاہرہ کرتے وہ حقیقی اسلامی روح کے مظاہرہ پر معترض ہو گئے حالانکہ یہ چیز ندہی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔بہر حال جب میں نے یہ تحریک کی کہ ہندوستان کے دوسرے صوبوں کے احمدی قادیان کے درویشوں کو اپنی لڑکیاں دیں تو اس پر بارہ چودہ شادیاں ہو گئیں اور اب آہستہ آہستہ اور شادیاں بھی ہو رہی ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ شادی کے بعد انہیں ایک قسم کا سکون حاصل ہو جائے گا اور ایک تنگ جگہ میں رہنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں پہلی سی بے تابی نہیں رہے گی۔میاں بیوی کا رشتہ خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ بغیر اس کے انسان زیادہ دیر تک آرام سے زندگی بسر نہیں کر سکتا۔لیکن جب بیوی بچے ساتھ ہوں تو پھر سالہا سال بھی انسان تکالیف کو زیادہ محسوس نہیں کرتا۔ہمارے ملک کے تاجر باہر جاتے ہیں تب بعض دفعہ پندرہ پندرہ میں ہیں سال تک باہر رہتے ہیں۔جالندھر کے راول جاتے ہیں تو دس دس پندرہ پندرہ سال باہر رہتے ہیں اسی طرح پھیری کا کام کرنے والے تاجر سالہا سال باہر رہتے ہیں اور وہ گھبراتے نہیں کیونکہ ان کی قوم کو اس بات کی عادت ہو گئی ہے۔دوسرے لوگوں کو یہ عادت نہیں اس لئے وہ بغیر شادی کے رہنے