خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 645

خطبات محمود ۶۴۵ جلد سوم سے گھبراتے ہیں۔اگر ان کی شادیاں ہو جائیں اور بیویاں ساتھ ہوں تو تکلیف دہ حالات کو بھی خوشی سے برداشت کرنے لگتے ہیں اور ان کے ماں باپ بھی خوش رہتے ہیں۔کیونکہ انہیں خبریں آتی رہتی ہیں کہ اب ان کا فلاں پوتا پیدا ہوا ہے اب فلاں پوتی پیدا ہوئی ہے، وہ دور بیٹھے اس خیال سے خوش رہتے ہیں کہ ہماری نسل چل رہی ہے۔پھر اس سے نہ صرف قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ احساس بھی مٹ جاتا ہے کہ میں کسی جگہ قیدی بن کر رہ گیا ہوں۔ایک جگہ بیٹھا ہوا انسان بعض دفعہ گھبرا جاتا ہے لیکن شادیوں کا یہ فائدہ ہے کہ اگر کوئی شخص گھبرائے اور اس کی شادی مثلاً میرٹھ یا شاہ جہان پوریا دلی میں ہو چکی ہو تو وہ مہینہ بھر کے لئے اپنے سسرال چلا جائے گا اور اس طرح اپنی گھبراہٹ کو دور کر سکے گا۔غرض ایک طرف وہ سمجھے گا کہ میں قیدی نہیں اور دوسری طرف اس کے ماں باپ کو گو اس کی جدائی کا احساس و گا مگر اس خیال سے کہ ہمارے لڑکے کا گھر آباد ہے ان کا صدمہ نسبتاً کم ہو جائے گا۔(الفضل یکم جون ۱۹۵۱ء صفحه ۳۷۲) ہو له الفضل ۲۶ مئی ۱۹۵۱ء