خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 535

۵۳۵ جلد سوم خطبات محمود اس کا آرام بھی بڑھتا ہے، اس کی راحت بھی بڑھتی ہے لیکن اگر وہ اپنی پچھلی ذمہ داریوں کو ترک کر دے تو بسا اوقات اسے نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔حالانکہ انسان اگر غور کرے تو وہ اپنے شرف کو پچھلے لوگوں سے ہی حاصل کرتا ہے بے شک بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک گوادنی اخلاق کا آدمی ہوتا ہے لیکن اس کی اولاد کی وجہ سے اسے عزت حاصل ہوتی ہے لیکن اکثر اسے عزت اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ وہ اچھے خاندان میں سے ہوتا ہے۔کہتا ہے میں ایسے خاندان میں سے ہوں ایسے ماں باپ کا بیٹا ہوں۔مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس کی عزت تو اپنے ماں باپ سے وابستہ ہوتی ہے مگر وہ ان کی خدمت نہیں کرتا اور نہ ان سے شخص حسن سلوک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ان ہی نقائص کو دور کرنے کے لئے رسول کریم نے ہدایت دی ہے کہ عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ - سے تم دیندار عورت کو لاؤ وہی تمہاری ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں تمہاری مددگار ہوگی۔تم غور کر کے دیکھ لو جہاں کوئی دیندار عورت آئے گی وہ ایسے رنگ میں کام کرے گی جو دین کو فائدہ پہنچانے والا ہو گا اور دین کسی خاص چیز کا نام نہیں دین نماز کا نام ہے، دین روزے کا نام ہے، دین حج کا نام ہے، دین زکوۃ کا نام ہے، دین محنت کا نام ہے، دین روحانیت کا نام ہے غرض دین ہزاروں چیزوں کا نام ہے۔ایک پیشہ ور جو اپنے پیشہ میں محنت سے کام کرتا ہے وہ دیندار ہے، ایک نو کر جو اپنی نوکری میں محنت سے کام لیتا ہے وہ دیندار ہے، ایک مزدور جو محنت سے مزدوری کرتا ہے، دیندار ہے، ایک زمیندار جو اچھی طرح ہل چلاتا ہے دیندار ہے، غرض دینداری ایک وسیع چیز کا نام ہے۔پر عَلَيْكَ بِذَاتِ الد ین کے معنے یہ ہیں کہ وہ خود اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والی ہو اور خاوند کو اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مدد دینے والی ہو جب یہ چیز پیدا ہو جائے تو لازمی طور پر فتنہ و فساد مٹ جاتا ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص صرف اپنا حق مانگتا ہے لیکن دیندار دوسرے کو اس کا حق دلاتا ہے۔جیسے میں نے ابھی کہا ہے کہ اگر بچوں کی خدمت کی بجائے انسان ماں باپ کی خدمت کرے تو اس کے بچے اس کی خدمت کرنے لگ جائیں گے اور اپنا حق لینے کی بجائے دوسروں کو اس کا حق دیں۔اس طرح اگر انسان دوسروں کو ان کے حقوق دلوائے اور اپنے حق پر اصرار نہ کرے تو حقوق پھر بھی ملتے ہیں مگر امن کے قیام میں بہت مدد ملے گی۔اگر خاوند بیوی سے کہے کہ تم میرے ماں باپ کی خدمت کرو اور بیوی خاوند سے کہے کہ تم میرے ماں باپ سے حسن سلوک کرو تو اگر وہ دونوں خاندان شریف ہیں تو بیوی خاوند