خطبات محمود (جلد 3) — Page 534
خطبات محمود ۵۳۴ جلد سوم ہے تو سات صلواتیں سنادیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر دوں؟ خدا نے مجھے اپنے فضل سے جوانی کے ایام سے ہی اپنے مقام پر رکھا کہ میرے سامنے کسی کو ایسے الفاظ کہنے کی جرات نہیں ہوتی مگر پھر بھی بعض لوگوں کے فقرے مجھے پہنچ جاتے ہیں اور مجھے ان کے سننے کا اتفاق ہو جاتا ہے۔چنانچہ میرے پاس بیان کیا گیا ہے کہ ایک دفعہ ایک نوجوان کو توجہ دلائی گئی کہ وہ اپنے ماں باپ کی خدمت کیا کرے تو اس نے بڑے جوش سے کہا کیا میں اپنے ماں باپ کے لئے بچوں کو فاقے مار دوں اسے یہ فقرہ کہتے ہوئے ذرا بھی خیال نہ آیا کہ انہوں نے فاقے کر کر کے ہی اسے پالا تھا۔تو شادی جہاں اپنے ساتھ بڑی بڑی برکتیں لاتی ہے وہاں بڑے بڑے ابتلاء بھی لاتی ہے اور انسان کی آزمائش در حقیقت اس کی شادی کے ساتھ ہو جاتی ہے۔پس جہاں شادی انسان کے لئے ایک نئی جنت پیدا کرتی ہے وہاں یہ پہلی بنی ہوئی جنت سے انسان کو محروم بھی کر دیتی ہے۔مجھے ہمیشہ ہی حیرت آتی ہے کہ بات تو وہی ہوتی ہے مگر لوگ اور طرف منہ کر کے قربانی کر دیتے ہیں اور اخلاقی طور پر مجرم سمجھے جاتے ہیں۔حالانکہ اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ دوسروں کے لئے قربانی کر رہے ہیں اگر یہ قربانی آگے کی طرف کرنے کی بجائے لوگ پیچھے کی طرف منہ کر کے کرتے تو پھر بھی دنیا اسی طرح رہتی مگر وہ اخلاقی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ سمجھی جاتی۔اگر باپ بجائے اس کے کہ بچوں کی طرف زیادہ توجہ کرتا اپنے ماں باپ کی طرف توجہ کرتا تو اس کے بچے اس کی طرف توجہ کرتے اور دنیا پھر بھی چلتی چلی جاتی مگر اخلاقی ذمہ داریاں پوری ہو جاتیں۔اب تو ایسی ہی بات ہے جیسے گاڑی کے پیچھے بیل جوت لیا جائے۔آج دنیا نے بے شک ترقی کا یہ ایک ذریعہ قرار دیا ہے کہ ہر باپ اپنے بچوں کی طرف توجہ کرے لیکن اگر ہر شخص اپنے ماں باپ کی طرف منہ کرتا تو دنیا اسی طرح چلتی رہتی صرف یہ ہو تاکہ لوگ اخلاقی ذمہ داری سے عہدہ بر آہو جاتے۔اسی طرح رسول کریم ا نے فرمایا ہے ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔سے اس حدیث کے اور بھی معنی ہیں لیکن ایک معنی یہ بھی ہیں کہ انسان اس طرف منہ کر کے کھڑے ہو جائیں تو دنیا کا فتنہ و فساد دور ہو جائے۔اگر بجائے اگلی نسل کا فکر کرنے کے وہ پچھلی نسل کا فکر کرتے تو اول تو دادا دادی بلا وجہ یہ نہ کہتے کہ پوتوں کا خیال نہ رکھا جائے اور اگر بعض لوگ کہتے بھی تو ان کی نسل ان کی خدمت کرنے لگ جاتی۔بہر حال شادی کے ساتھ انسانی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، بے شک