خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 536

خطبات محمود ۵۳۶ چار سو کے ماں باپ کی خدمت کرے گی اور خاوند بیوی کے ماں باپ کی خدمت کرے گا۔لیکن اگر اس کی بجائے بیوی خاوند کو تو جہ دلائے کہ تم اپنے ماں باپ کی خدمت کیا کرو اور خاوند بیوی کو توجہ دلائے کہ تم اپنے ماں باپ کی خدمت کیا کرو تو بات پھر بھی وہی ہوگی مگر فرق یہ ہوگا کہ درمیان میں سے ذاتی غرض جاتی رہے گی اور یہ توجہ دلانا نیکی بن جائے گا۔کیونکہ یہ اپنے حق کا مطالبہ نہیں ہو گا بلکہ ایک نیکی کی راہ پر دوسرے کو چلانا ہو گا۔گو اس صورت میں بھی حق اسی طرح مل جائے گا جس طرح پہلی صورت میں لیکن بجائے اس کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں۔اگر لوگ دوسروں کے حقوق دلوانے کی کوشش کریں تو ان کے اپنے حق بھی انہیں مل جائیں اور دنیا میں بھی امن قائم ہو جائے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں جو شخص نیکی کی تحریک کرتا ہے اسے دو ثواب ملتے ہیں ایک نیکی کی تحریک کا اور ایک اس نیکی کا جو دوسرا شخص اس کی تحریک پر کرے۔پس دوسروں کے حقوق دلواؤ تاکہ دنیا میں امن قائم ہو۔اگر ایک عورت یہ کہے کہ میرے ماں باپ سے حسن سلوک کرو اور خاوند کے کہ میرے ماں باپ کی خدمت کرو تو اس میں خود غرضی پائی جائے گی لیکن اگر خاوند عورت سے کے اپنے ماں باپ کی خدمت کیا کرو اور عورت خاوند سے یہ کہے کہ تم اپنے ماں باپ کی خدمت کیا کرو تو اس کے نتیجہ میں بھی دونوں کے والدین کی خدمت ہوتی رہے گی لیکن اس کے ساتھ ہی دونوں کا فعل نیکی اور تقویٰ قرار دیا جائے گا۔تو رسول کریم ﷺ نے عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ - فرما کر اس طرف توجہ دلائی ہے۔دین کے معنی فرض اور واجبات کے ہوتے ہیں اور عَلَيْكَ بِذَاتِ الدین کے معنی یہ ہیں کہ تم اس عورت کو لاؤ جو اپنے واجبات اور فرائض کو سمجھنے والی ہو۔اس طرح عورت کے لئے ایسا خاوند تلاش کرو جو اپنے فرائض اور واجبات کو سمجھنے والا ہو۔جب دونوں اپنے اپنے فرائض اور واجبات کو سمجھیں تو لازماً دنیا میں امن قائم ہو گا اور جب دونوں اپنے اپنے فرائض سمجھیں گے تو وہ ثواب میں بھی شریک ہوں گے جیسے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین گھر وہ ہے جس میں تجد کے وقت اگر بیوی کی آنکھ نہیں کھلتی تو خاوند پانی کا چھینٹا اس کے منہ پر مارتا ہے اور اگر خاوند کی آنکھ نہیں کھلتی تو بیوی اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا مارتی ہے ہے یہ گویا ایک دوسرے کے فرائض کو یاد دلانے کی رسول کریم ال نے ایک مثال دی ہے اور بتایا ہے کہ مرد اور عورت کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔