خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 519

خطبات محمود ۵۱۹ جلد سو پیشگوئی کا ذکر آگیا اور لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب قادیانی کی پیشگوئی جھوٹی نکلی اور درباریوں نے بہت کچھ نہیں اور استہزاء سے کام لینا شروع کر دیا۔ہنسی مذاق ہو ہی رہا تھا کہ نواب صاحب بھی اس میں شامل ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہاں یو نہی لوگ پیشگوئیاں کر دیتے ہیں اور اپنے آپ کو خدا رسیدہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب پیشگوئی پوری نہیں ہوتی تو ان کی قلعی کھل جاتی ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی روحانیت کے مالک نہ تھے۔نواب صاحب کے پیر چاچڑاں شریف والے بھی اس مجلس میں موجود تھے جب تک لوگ مذاق کرتے رہے وہ خاموشی سے بیٹھے رہے مگر جب نواب صاحب بھی شریک ہو گئے تو چونکہ وہ نواب صاحب کے پیر تھے اور ان کو ڈانٹ ڈپٹ بھی کیا کرتے تھے اس لئے جوش میں آگئے اور انہوں نے نواب صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تم کو کیا معلوم ہے کہ پیشگوئیاں کیا ہوتی ہیں اور تم ایسی باتوں میں کیوں دخل دیتے ہو۔تم کہتے ہو کہ آ تم زندہ ہے مجھے تو اس کی لاش اپنے سامنے نظر آرہی ہے۔شاہ اور حقیقت بھی یہی ہے۔آتھم اس وقت روحانی لحاظ سے زندہ نہیں تھا بلکہ مر چکا تھا کیونکہ جب اسے کہا گیا کہ تم جو محمد ﷺ کے متعلق کہتے ہو کہ وہ نعوذ باللہ جھوٹے اور دجال تھے اگر تم اپنی اس شرارت سے باز نہ آئے اور رسول کریم کے متعلق ایسے کلمات کا استعمال تم نے ترک نہ کیا تو پندرہ ماہ کے اندر تم ہادیہ میں گرائے جاؤ گے تو اس نے پیشگوئی سنتے ہی اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور کہا میری توبہ میں آئندہ ایسے الفاظ نہیں کہوں گا۔پس وہ تو مردہ ہو چکا کیونکہ جس مذہب اور جس عقیدہ پر وہ پہلے ایمان رکھتا تھا اس کو اس نے اپنے عمل سے باطل ثابت کر دیا اور گویا وہ پہلا آتھم نہ رہا بلکہ پہلے آتھم پر ایک موت آگئی اور اب ایک نیا آتھم بن گیا۔یہی بات چاچڑاں شریف والے جو پیر تھے انہوں نے بھی کسی اور فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو کہ آ تم زندہ ہے مجھے تو اس کی لاش سامنے نظر آرہی ہے۔تو بہت سے لوگ بظاہر زندہ نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً مردہ ہوتے ہیں اور بہت سے بظاہر معزز دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقتاً ذلیل ہوتے ہیں۔عزت رہی ہے جو خدا تعالی کی طرف سے آتی ہے اور زندگی رہی ہے جس کا جام اس کی طرف سے تقسیم ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان اور آپ کے متبعین کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے برکتوں کے دروازے کھول دیئے ہیں بشر طیکہ وہ دنیوی عزتوں کا حصول اپنا مستمی قرار نہ دیں۔دنیا کمانی منع نہیں مگر دنیا کا ہو رہنا منع ہے۔اسی طرح روٹی کمانا منع نہیں مگر دین کو دنیا پر مقدم نہ رکھنا اور آٹھوں پر روٹی کمانے میں