خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 520

خطبات محمود ۵۲۰ چند موم مشغول رہنا منع ہے۔مومن کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ دنیا کے لئے اتنا وقت خرچ کرے جتنے وقت کے بعد اسے روٹی مل جائے اور اس سے زائد وقت جتنا ہو اسے خدا کے دین کے لئے صرف کرے۔مگر دنیا کی ترقی میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا یہ چیز ہے جس کو خدا ان لوگوں کے لئے پسند نہیں کرتا جن کے لئے اس نے روحانی اور ضروری عزتیں مقدر کی ہوئی ہوں۔اور ی لوگ اگر دنیا کمانے میں اس طرح مشغول ہو جائیں تو وہ ان کو معاف بھی کر دیتا ہے۔لیکن اگر وہ لوگ اس طرف متوجہ ہوں جن کو اس نے دینی طرف سے عزتیں دینے کا وعدہ کیا ہو تو وہ ان کو کبھی معاف نہیں کرتا۔غرض میں یہ بتا رہا تھا کہ ہمارے ملک میں بے ماں کے بچوں کی شادیاں بھی رقت پیدا کرنے کا موجب ہو جاتی ہیں اور کئی قسم کے جذبات دل میں اٹھنے لگ جاتے ہیں گویا آج ہماری مثال بالکل وہی ہے جو فتوحات مکیہ میں محی الدین صاحب ابن عربی نے لکھی ہے۔۔۔۔وہ لکھتے ہیں ایک دفعہ میں کہیں جا رہا تھا کہ رستہ میں میں نے ایک درخت پر ایک کوے اور کبوتر کو اکٹھے بیٹھے دیکھا۔وہ بیٹھے رہے اور بیٹھے رہے اور میں دل میں یہ سوچتا رہا کہ کوے اور کبوتر کا آپس میں کیا جوڑ ہے مگر مجھے کچھ پتہ نہ لگا لیکن میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اس کی حکمت معلوم کر کے جاؤں گا۔چنانچہ میں وہیں بیٹھ گیا اور کافی دیر بیٹھا رہا آخر وہ دونوں ہے تو مجھے معلوم ہوا کہ دونوں ہی لنگڑے ہیں اور اس وجہ سے وہ ایک جگہ بیٹھے ہیں۔اسے وہ تو کوے اور کبوتر کا اجتماع ہے جوڑ سا نظر آتا تھا مگر یہاں ایک خاندان کے آگے پیچھے دو شادیاں ایسی ہوئی ہیں جن میں دونوں لڑکیاں بے ماں ہیں۔یعنی میری لڑکی امتہ القیوم کی والدہ بھی فوت ہو چکی ہے اور نصیرہ بیگم کی والدہ بھی عرصہ ہو ا فوت ہو چکی ہے۔ان شادیوں کا تصور کر کے میرا ذہن اس طرف گیا کہ بے شک یہ جذبات کو ابھارنے اور افکار میں ایک انگیخت پیدا کرنے والی چیز ہے مگر اس غم پر غالب آنے کی قوت بھی رسول کریم ای کے نمونہ کو دیکھ کر پیدا ہو سکتی ہے اور وہ اس طرح کہ ہماری بچیاں تو ہے ماں کی ہیں مگر محمد ﷺ کی والدہ بھی بچپن میں فوت ہو چکی تھیں اور ان کے والد بھی وفات پاچکے تھے اور اس طرح وہ بے باپ اور بے ماں کے تھے۔پھر آپ کو پرورش کرنے والے ایسے لوگ نہیں ملے جیسے پرورش کرنے والے ہماری بچیوں کو ملے ہیں۔گو اپنی نسبت کچھ کہنا معیوب سا دکھائی دیتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی بچی کا اس حد تک خیال رکھا ہے جس حد تک کوئی باپ اپنی بچی کا خیال رکھ سکتا ہے اسی طرح میں جانتا ہوں کہ