خطبات محمود (جلد 3) — Page 518
خطبات محمود ۵۱۸ چاہئیں کیونکہ انہی سے لوگوں نے برکتیں حاصل کرنی ہیں۔اگر وہ ان برکتوں کے وارث ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرلیں تو ان کے حق میں بہت سے خدائی وعدے موجود ہیں۔لیکن اگر وہ دین کی خاطر اپنی زندگیاں بسر نہیں کریں گے تو خدا تعالیٰ کو تو کسی کی پرواہ نہیں وہ غنی عن العالمین ہے۔وہ اپنے روحانی فضل ان سے اٹھا لے گا۔بے شک دنیا است وقت بھی ان کی عزت کرے گی کیونکہ جو خاندان ایک دفعہ اونچا ہو جائے لوگ ایک لمبے عرصے تک اس کی عزت کرنے پر مجبور رہتے ہیں لیکن خدا کے حضور ان کی کوئی عزت نہیں ہوگی۔جیسے آج کئی سید ہیں مگر نو مسلموں سے بھی بدتر ہیں لیکن انہیں شاہ صاحب شاہ صاحب ہی کہتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایسے سید کی نسبت اس ادنی انسان کی زیادہ عزت ہوتی ہے جو اسلام کے احکام پر عمل کرتا ہے۔پس ظاہری عظمت کچھ چیز نہیں اصل عظمت وہی ہے جو روحانی رنگ میں حاصل ہوتی ہے۔ظاہری عظمت تو اب ہمارے خاندان کی خدا تعالٰی کے فضل سے چلتی چلی جائے گی کیونکہ جو خاندان بڑے ہو جائیں گے ان کے افراد کو بعد میں روحانی اور اخلاقی لحاظ سے گر بھی جائیں دنیا ان کا ادب کرتی ہے مگر بہر حال اس وقت ان کی حیثیت آثار قدیمہ کی سی ہوتی ہے۔جس طرح بعض دفعہ پرانی پھٹی ہوئی جوتی کو احتیاط سے اٹھالیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ تیمور کی پھٹی ہوئی جوتی ہے حالانکہ اپنے زمانہ میں اس پھٹی ہوئی جوتی کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔اسی طرح بڑے خاندان کے افراد اگر بعد میں خراب بھی ہو جائیں تو آثار قدیمہ سمجھتے ہوئے ان کی کچھ عزت کی جاتی ہے لیکن وہ حقیقی عزت نہیں ہوتی۔حقیقی عزت وہی ہے جس کے ساتھ زندہ خدا کی نصرت شامل ہو اور اگر کسی کے ساتھ زندہ خدا کی نصرت شامل نہیں تو خواہ لوگ اس کو کس قدر عزت کی نگاہ سے دیکھیں وہ مردود اور روحانی لحاظ سے مردہ ہے اور قطعا زندہ کہلانے کا مستحق نہیں۔بے شک وہ لوگوں کو زندہ دکھائی دیتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مردہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی روحانی قوتیں مردہ اور بیکار ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود نے جب عبد اللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی کی کہ اگر وہ اسلام کے خلاف بد زبانی سے باز نہ آیا تو پندرہ ماہ کے اندر ہلاک ہو جائے گا اور آتھم نے اس عرصہ میں پیشگوئی کی ہیبت سے متأثر ہو کر اپنے رویہ میں تبدیلی کرلی اور وہ ہلاکت سے بچ گیا تو اس پر مخالفین نے بہت شور مچایا اور کہا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔اس زمانہ میں جو نواب صاحب بہاول پور تھے اور جن کا نام صبح بہار صادق یا کچھ اور تھا ایک دن ان کی مجلس میں بھی اس 1