خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 225

خطبات محمود ۲۲۵ جلد سوم ہے۔پہلے وہ اچھا بھلا ہوتا ہے مگر نکاح کے بعد نفرت پیدا ہو جانے کے سبب سب قابلیتیں ضائع ہو جاتی ہیں جن کا اثر بہت ہی برا اس پر پڑتا ہے۔اسی طرح فائدوں کے ساتھ ساتھ ان نقصانات کا سلسلہ بھی چلا جاتا ہے۔تو نکاح ایک ایسا اہم معاملہ ہے کہ اس کا اثر دین پر بھی پڑتا ہے، مذہب پر بھی پڑتا ہے، تمدن پر بھی پڑتا ہے اور طبعی تقاضوں پر بھی پڑتا ہے اس لئے اس میں بڑی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ نکاح سے پہلے نکاح کے لئے استخارہ کرو دعا کرو اور بہت گڑ گڑا کے کرو کیونکہ انسان کو کچھ معلوم نہیں ہو تا کہ اس کا کیا اثر پڑے گا اور اگر اس میں غلطی ہو جائے تو ایک شخص کہیں سے کہیں جا نکلتا ہے پس اس کے لئے بڑی دعائیں کرنے کا حکم ہے۔بیسیوں آدمی ایسی غلطیوں سے مرتد ہو گئے ، بیسیوں ایسے ہیں کہ بعض جگہ ان کی شادیاں ہو گئیں مگر وہ ان شادیوں کی وجہ سے مارے گئے۔پھر تمدن کو نقصان پہنچا تو لڑائیاں شروع ہو ئیں اور لڑائیوں کے نقصان بعض دفعہ بڑے خطرناک اور مسلک ہو جاتے ہیں۔ادھر تمدن بگڑا۔ادھر اخلاق بگڑتے ہیں۔مثلاً کسی کی بیوی جھگڑالو اور لڑاکی ہے یا اس میں کوئی اور خرابی اور نقص ہے تو خاندان کے لوگ یا محلے والے اس کی شکایت کرتے ہیں کوئی کہتا ہے تمہاری بیوی نے یہ کیا، کوئی کہتا ہے تمہاری بیوی نے یہ نقصان کر دیا اور وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے لوگوں سے ڈرتا ہے۔ایسے بھی ہیں جن کے طبعی تقاضے ضائع ہو جاتے ہیں۔ایسے بھی ہیں جن کے دین کو صدمہ پہنچ جاتا ہے ایسے بھی ہیں کہ جن کے مذہب کو نقصان پہنچتا ہے تو نکاح میں احتیاط کرنی چاہئے یہی وجہ ہے تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے اور دعاؤں اور استخاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔شادی سے پہلے کئی قسم کے فوائد مد نظر ہوتے ہیں مگر وہ بعد میں حاصل نہیں ہو سکتے۔پھر جب شادی ہو جاتی ہے تو محبت کے تقاضے دیانت، امانت، مذہب، تمدن اور اخلاق پر حملہ کرتے ہیں اور یہ بھی ایک نقصان دہ چیز ہے۔پس اس نقصان سے بھی بچنے کی کوشش کرنے کا حکم ہے۔اس وقت میں دو نکاحوں کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔پہلا اعلان تو میری سالی کی لڑکی صابرہ کے نکاح کا ہے جو مولوی عبد الماجد صاحب بھاگلپوری کی نواسی اور مولوی منیر الدین صاحب مرحوم کی لڑکی ہے اس کا نکاح بعوض تین ہزار روپیہ مرسید وزارت حسین صاحب سے قرار پایا ہے۔