خطبات محمود (جلد 3) — Page 224
خطبات محمود جلد سوم حاصل کرتے تھے اور آپ کے نکاح بہترین نمونہ ہیں جن سے انسان پتہ لگا سکتا ہے کہ نکاح کے فوائد کیا ہیں اور انسانی اعمال کے ان چاروں شعبوں پر اس کا کیا اثر ہے۔بعض دفعہ تو واقفیت ہوتی ہے مگر تعلقات محبت نہیں ہوتے لیکن بعض دفعہ تو واقفیت ہی نہیں ہوتی۔ان کو آپس میں رنج سے رنج اور خوشی سے خوشی نہیں ہوتی لیکن اس قسم کے لوگوں میں اگر شادی ہو جائے تو شادی کے بعد وہ ایک جان ہو جاتے ہیں۔ان میں تعلقات قائم کی ہو جاتے ہیں اور تمدن بڑھتا ہے۔تعلق لڑکے اور لڑکی میں ہوتا ہے لیکن محبت سینکڑوں میں پیدا ہو جاتی ہے۔پھر بعض دفعہ آپس کی ناراضگیاں اور رنجشیں بھی دور ہو جاتی ہیں اور دلوں سے میل دھوئی جاتی ہے اور وہ جو یا تو پہلے ایک دوسرے سے واقف نہ تھے یا اگر واقف تھے تو ایک دوسرے کے ساتھ تعلق نہ رکھتے تھے یا اگر تعلق رکھتے تھے تو آپس میں رنجشیں پیدا ہو چکی تھیں وہ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کے بعد آپس میں مل بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں۔یہی حال طبعی فوائد کا ہے۔شادی نہ کرنے سے بعض بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں لیکن اگر شادی کرلی جائے تو وہ اس قسم کے گناہوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور اس طرح اسے مذہب کے لحاظ سے بھی فائدہ پہنچ جاتا ہے اور طبعی تقاضوں کے لحاظ سے بھی۔جہاں نکاح کے مذہبی فوائد ہیں وہاں اس کے مذہبی نقصان بھی ہیں۔بعض دفعہ مرد کو عورت کے مذہب سے ٹھوکر لگ جاتی ہے اور بعض دفعہ عورت کو مرد کے مذہب سے نقصان پہنچ جاتا ہے۔اور عورت کو مرد کے مذہب سے جو نقصان پہنچتا ہے اس کی مثال نبیوں کے دشمنوں کی بیویاں ہیں جو خود اپنی ذات سے تو تحقیق کرتی نہیں اور اپنے خاوندوں کے مذہبوں پر چلتی ہیں۔اب وہ عورت جس کی شادی کسی نبی کے دشمن کے ساتھ ہو گئی ہو رہی مذہب اپنا بھی بنائے گی جو اس کے خاوند کا ہے تو اس صورت میں اس پر غور کرو کہ کس طرح مذہب کے لحاظ سے اس عورت کو نقصان پہنچا۔اخلاقی طور پر بھی یہی حال ہے بعض عورتیں ایسے خاوندوں سے بیاہی جاتی ہیں جو اچھے بھلے نیک ہوتے ہیں مگر شادی کے بعد ٹھو کر کھا جاتے ہیں اور کئی قسم کی بد اخلاقیوں میں پھنس جاتے ہیں اور اخلاق ضائع ہو جاتے ہیں۔اسی طرح عورت کو بھی یہی نقصان مرد سے پہنچ جاتا ہے۔طبعی طور پر بھی دیکھا ہے کہ بسا اوقات اپنی تمام قابلیتوں کو نکاح کر کے ایک شخص کھو بیٹھتا