خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 628 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 628

خطبات محمود ۶۲۸ جلد سوم تعالٰی پر توکل ہو گا اس کا قسم کا خیال تو وہی شخص کر سکتا ہے جو دین کی خدمت کی حقیقت سے نا آشنا ہو ۔ ورنہ جو شخص دین کی کچھ بھی حقیقت سمجھتا ہے وہ اس قسم کا سوال کرتا ہوا شرمائے گا اور ایسا سوال دل کے اندر پیدا ہونے پر وہ ندامت محسوس کرتے ہوئے اور اس چیز کو اپنی غلطی سمجھتے ہوئے خدا تعالی کے حضور سجدہ میں گر کر کے گا کہ اے میرے خدا! یہ میری غلطی اور نادانی تھی کہ میرے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہوا۔ میں تجھ پر سچا تو کل کرتا ہوں اور تیرے دین کی خدمت کے لئے بغیر کسی مطالبہ کے حاضر ہوں۔ غرض جب تک ہماری جماعت کے لوگوں کے دلوں میں یا خود زندگی وقف کرنے والوں کے دلوں میں اس قسم کے سوالات اٹھتے رہیں گے ترقیوں اور کامیابیوں کا منہ دیکھنا نا ممکن ہوگا۔ یہ احساس جب تک مٹ نہ جائے گا اور جماعت کا ہر بچہ اور بوڑھا ہر مرد اور ہر عورت اور ہر چھوٹا اور ہر بڑا اپنے دل کو اس یقین سے لبریز نہ کرلے گا کہ جو کچھ ہے وہ دین ہی ہے اس وقت تک ہم ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ پس ہماری جماعت کے ہر فرد کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ خدمت دین ہی سب سے بڑی، سب سے اعلیٰ اور سب سے ارفع خوبی ہے۔ جب تک طبائع میں یہ احساس پیدا نہ ہوگا دین کا ادب اور احترام قائم نہیں ہو سکتا اور جو قوم اپنے دین کا ادب اور احترام نہیں کرتی وہ زیادہ دیر زندہ بھی نہیں رہ سکتی ۔ عیسائیوں کے اپنے دین کی خدمت کا ادب اور احترام کرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ پادریوں میں نام دیتے ہیں اور اکثر ان میں لارڈوں کے بیٹے ہوتے ہیں۔ مثلاً آج کل لندن میں مزائیلے سے ایک پادری عورت ہے جو ہمارے لندن والے مشن میں بھی چار پانچ دفعہ آچکی ہے ۔ گو وہ متعصب ہے مگر اس پر ہمارے مشن کا اثر ضرور ہے وہ برطانیہ کے سب سے بڑے وزیر کی بیوی ہے ۔ وہاں تو یہ حال ہے کہ کوئی لیبر ہو ، کنز روٹیو ہو، یا لبرل ہو وہ لوگ اپنی بڑائی کا اس میں یقین کرتے ہیں کہ دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ لیکن ہمارے ہاں یہ حال ہے کہ زندگیاں تو ہے شک وقف ہوتی ہیں لیکن ساتھ ہی روٹی اور سالن کا سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے ۔ اگر جماعت نے اپنے اس رویہ میں تبدیلی نہ کی تو ہم ایسے راستہ پر قدم مار رہے ہوں گے جس پر چل کر کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ جب تک یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم یا ہمارے رشتہ دار اگر دین کی خدمت کرتے ہیں تو یہی ہمارے لئے سب سے اعلیٰ بڑائی اور فخر کا مقام ہے اس وقت تک ہم